اسلام آباد (سپیشل رپورٹ) پنجاب اسمبلی کے پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کی نااہلی سے خالی ہونے والی 20 نشستوں پر جونتائج سامنے آئے ہیں ان کی نہ صرف پاکستانی بلکہ عالمی میڈیا میں بھی بازگشت مسلسل سنائی دے رہی ہے، بہت سے تجزیہ کار جو پی ٹی آئی کو 5 سے زیادہ نشستیں دینے کو تیار نہیں
تھے نتائج پر ابھی تک حیران اور ششدر ہیں جبکہ بعض نے کھلے سے اعتراف کیا ہے کہ عوام کیا سوچ رہے تھے وہ اس کا اندازہ ہی نہیں لگا سکے شاید بہت سے تجزیہ کاروں نے عوام کی نبض جاننے کے لئے ان تک جانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی اور دفتروں ، گھروں میں بیٹھ کر ایک دوسرے کی باتوں سے ہی نتائج اخذ کرتے رہے بہرحال ان نتائج کا تو آئندہ کئی ماہ تک گہرائی سے جائزہ لیا جاتا رہے گا اور ہر پہلو سے پی ٹی آئی کی کامیابی اور (ن) لیگ کی ناکامی کی وجوہات تلاش کی جائیں گی تحر یک انصاف کی ضمنی انتخابات میں اس کامیابی کا بلا شبہ تمام تر کریڈٹ پارٹی کے سربراہ عمران خان کو ہی جاتا ہے، وہ 10 اپریل کو اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کے بعد اقتدار سے دوری کو روگ بنانے کی بجائے پوری پارٹی کیلئے ایک مثال بن کر ابھرے اور 70 سالہ بوڑھے کی بجائے ایک نوجوان جیسی قوت ،عزم اور حوصلے سے اٹھے اور نہ صرف خود کو بلکہ پوری پارٹی کو گرداب سے نکال کر وکٹری سٹینڈ پر کھڑا کر دیا ۔ تحریک انصاف اور عمران خان کی اس کامیابی کی اگر بڑی بڑی وجوہات پر نظر ڈالی جائے تو سب سے زیادہ عمران خان کا انتہائی جارحانہ انداز اس کامیابی کی بڑی وجہ نظر آتا ہے، اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ انہوں نے 10 اپریل
کے بعد سے ڈنڈا اٹھا کر بیک وقت اسٹیبلشمنٹ ، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے علاوہ 13 جماعتی حکومت کی ٹھکائی شروع کی اور سب کو اپنے دباؤ میں
لے آئے اور ان میں سے کسی کو بھی 17 جولائی تک اس دباؤ سے نکلنے نہ دیا عمران خان حکومت کے آخری دنوں میں جو کچھ ہوتا رہا اور باالخصوص 10 اپر یل کورات 12 بجے جب عدالتیں کھل گئیں اور قیدیوں والی گاڑیاں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہرپہنچیں تو یہ سارے مناظر گھروں میں بیٹھے کروڑوں عوام کے دلوں میں شدید غم وغصہ پیدا کر رہے تھے ، عمران خان اور ان کی پارٹی جو حکومت کے خاتمہ کے اگلے روز ابھی سکتہ کا شکارتھی کہ ملک کے تمام بڑے شہروں اور دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں نے عمران حکومت کے خاتمہ کے خلاف کسی کال کے بغیر اپنے غم و غصہ کا اظہار کر کے نہ صرف عمران خان بلکہ اسے گھر بھجوانے والی ساری قوتوں کو بھی حیران اور پریشان کر دیا عوام کے اندر اپنے لئے اٹھنے والی اس ہمدردی کی لہر کوعمران خان نے بھانپ لیا اور پھر اس انداز میں عوام کے اندر آئے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ، عمران خان نے ملک بھر میں اپنی انتہائی جارحانہ مہم کا آغاز کیا، بڑے بڑے شہروں میں منعقدہ جلسوں میں عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے غیرملکی سازش کے ان کے بیانیہ کو دل سے تسلیم کیا کئی کامیاب جلسوں
کے بعد عمران خان نے 25 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان کیا جسے وفاقی اور پنجاب حکومت نے جس طریقے سے ناکام بنایا اور عمران خان کو 26 مئی کی صبح جس انداز میں اپنا لانگ مارچ ختم کر کےپشاور جانا پڑاوہ ایک الگ داستان ہے، لانگ مارچ کی ناکامی پربھی میڈیا میں بیٹھے بہت سے تجزیہ کاروں اور حکومتی ایوانوں میں موجودلوگوں نے سمجھا کہ اب لوگ عمران خان کا ساتھ نہیں دیں گے اور ان کا احتجاج دم توڑ گیا ہے باوجود اس کے کہ عمران خان نے اس
کے بعد 25 مئی جیسے احتجاج کی دوبارہ کال نہیں دی لیکن وہ پشاور میں اپنے دو ہفتے کے قیام میں بھی مسلسل متحرک رہے اور شاید ہی کوئی دن تھا جس دن انہوں نے کوئی نہ کوئی پروگرام کر کے اپنا پیغام عوام تک نہ پہنچایا ہو جس طرح ان 100 دنوں میں انہوں نے پورے میڈیا بالخصوص الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کوعوام کے ذہنوں میں اپنے بیانیہ کو بٹھانے کیلئے استعال کیا ۔ ملکی سیاسی تاریخ میں میڈیا کے ایسے استعمال کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی ، عمران خان نے اپنے مخالف مین سٹریم میڈیا جس میں کئی بڑے اخبارات اور ٹی وی چینلزشامل ہیں کو بے اثر کرنے کے لئے سوشل میڈیا کا بہترین طریقے سے استعمال کیا اس
سے بھی ان کی کامیابی کے راستے کھلے، سوشل میڈیا پر 80 فیصد سے زائد یوٹیو برصحافی عمران خان کے بیانیہ کی حمایت کر رہے تھے ۔ عمران خان نے جلسوں ، سیمینارز ، میڈیا کے پروگراموں میں مسلسل اپنی حکومت کے خاتمہ کی ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ ، عدلیہ اور اتحادی حکومت پر عائدکی ،اسٹیبلشمنٹ کو نیوٹرل اتحادی حکومت کو امپورٹڈ حکومت کا خطاب دے کر مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا تو دوسری
طرف عدلیہ کو بھی رات کو عدالتیں کھولنے پرتنقید کر کے دباؤ میں رکھا، الیکشن کمیشن اور خاص طور پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ بھی ان کے نشانہ پرر ہے اور انہوں نے عوام کے اندر پائے جانے والے امریکہ مخالف جذبات کو بھی اپنے خلاف غیرملکی سازش کے بیانیہ سے ملا کر اپنے لئے ہمدردی کی جو لہراٹھائی اس نے نوجوان لڑکے لڑکیوں، گھروں میں بھی خواتین اور ہر طبقے کے افراد کے علاوہ معصوم بچوں تک کو اپنی لپیٹ میں
لے لیا۔ عمران خان نے 17 جولائی سے پہلے تک ایک لمحہ کیلئے بھی عوام کو اپنے سحر سے باہر نہ آنے دیا اور اس دوران 20 حلقوں کی انتخابی مہم جس جارحانہ انداز میں چلائی، دن میں دو سے تین جلسے اورحتی ٰکہ آخری روز انہوں نے چک جھمرہ کے علاوہ لاہور میں تین جلسوں سے خطاب کیا اور رات11:55پر آخری جلسے میں اپنی تقریر ختم کر کے انتخابی مہم کا اختتام اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو بھر پور طریقے سے للکارتے ہوئے کیا کہ ہمت ہے تو لگائو میرے خلاف آرٹیکل 6، میں بھی ایک ایک غدار کوعوام کے سامنے ننگا کروں گا۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کی کامیابی کی ایک اور وجہ یہ بھی قرار دی جاسکتی ہے کہ پوری انتخابی مہم میں عمران خان نے اپنے ساڑھے تین سالہ دور کی وہ ساری ناکامیاں جو ان کے مخالفین بیان کرتے رہے ان پر فوکس نہیں ہونے دیا اور وہ کامیابی سے عالمی سازش اور مخالفین کی کرپشن کو اجاگر کرتے رہے۔ عمران خان نے اپنی انتخابی مہم کے دوران پی ٹی آئی کے منحرف ہونے والے ارکان کو لوٹے قرار دے
کر ان کیخلاف نفرت کے جذبات پیدا کئے اور وہ مسلسل عوام کو 17 جولائی کو بلے سے لوٹوں سمیت ساری قوتوں کی پٹائی کا پیغام دیتے رہے اور یوں عمران خان
نے اپنے تمام کارڈز انتہائی ہوشیاری اور ذہانت سے استعمال کر کے 100 روز کے اندر پارٹی کو اس مقام پر لاکھڑا کیا جس کو دیکھ کر ساری قوتیں جو انہیں اقتدار سے باہر رکھنا چاہتی تھیں وہ شاید ابھی تک حیران اور ششدر ہیں ۔ دوسری طرف (ن) لیگ کی شکست کی بڑی بڑی وجوہات کی بات کی جائے تو ان میں ووٹ کو عزت دو کے میاں نواز شریف کے بیانیہ سے انحراف کر کے اسٹیبلشمنٹ کا شریک کار بننا ،
عمران خان کے خلاف ساڑھے تین سال تک مہنگائی ، کرپشن، بیڈ گورنس کے الزامات لگا کر فوری انتخابات کے مطالبہ کے تمام الزامات اور نعروں کو ایک طرف رکھ کر عوام سے بہتر حکومت ، مہنگائی کرپشن کے خاتمہ سمیت وہ تمام امید یں جو عوام کو عمران حکومت کے دور میں دلائی جاتی رہیں ان میں سے ایک بھی پوری نہ ہو سکی اور خاص
طور پر عمران حکومت کے خاتمہ کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 70 فیصد سے زائد اضافے کے نتیجے میں مہنگائی کی جو لہراٹھی وہ ان ضمنی انتخابات میں (ن) لیگ کو لے ڈوبی اور اس کا اعتراف خواجہ سعد رفیق سمیت کئی (ن) لیگی رہنماؤں نے ان الفاظ میں کیا کہ ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں مہنگائی سے تھا۔ (ن) لیگ کی شکست کی بڑی وجوہات میں 2018 میں پی ٹی آئی کے 20 منحرفین سے شکست کھانے والے اپنے امیدواروں کو نظر انداز کرنا بھی شامل ہے، ایک طرف عمران خان نے ان منحرفین کو مسلسل لوٹے قرار دے کر ان کیخلاف عوامی جذبات ابھارے
تو دوسری طرف انہی حلقوں میں (ن) لیگ کے کارکن اور رہنمالوٹوں کو (ن) کے ٹکٹ ملنے سے خوش نہیں تھے اور وہ اس ساری انتخابی ہم سے ایک طرح سے لاتعلق ہو گئے ،ن
لیگ کے کئی رہنما شکست اور ساری صورتحال کا در پردرہ زمہ دار وزیر اعظم شہباز شریف کو بھی قرار دیتے ہیں کہ وہ حکومت سنبھالنے کے بعد تقریبا ًایک ماہ سے زائد عرصہ کنفیوژن کا شکار رہے جس وجہ سے بہت سے اہم فیصلے التواء کا شکار ہوئے اور اس کا خمیازہ (ن) لیگ کو ضمنی انتخابات میں بھگتنا پڑا جبکہ نتائج آنے کے بعد تو (ن) لیگ کے کئی رہنما کھل کر یہ کہنا شروع ہو گئے ہیں اسٹیبلشمنٹ ہمیںشک کی نگاہ سے دیکھتی ہے، اس تمام تر صورتحال کا بغور تجزیہ کرتے ہوئے کئی تجزیہ کاروں نے ان نتائج کو (ن) لیگ کی حد سے زیادہ خوداعتمادی کو بھی قرار دیا کہ وہ زمینی حقائق کا اندازہ لگانے میں مکمل طور پر ناکام رہی اور نہ صرف شہباز شریف ، نواز شریف کو غلط رپورٹ پیش کرتے ہوئے مسلسل بتایا گیا کہ (ن) لیگ 15 نشستیں تو ہر صورت جیت رہی
ہے بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی بھی غمازی ہے کہ (ن) لیگی قیادت اس وقت عوام کے اندر بالکل نچلی سطح پر جو جذبات اور احساسات ہیں ان سے مکمل طور پرناواقف رہی
ضمنی انتخابات میں ن لیگ کس طرح ہاری اورتحریک انصاف کس طرح جیتی؟








