کراچی (نیوز ڈیسک)کراچی سے تعلق رکھنے والی دعا زہرا نے دارالامان منتقل ہونے کیلئے عدالت سے رجوع کرلیا۔
کراچی سے تعلق رکھنے والی دعا زہرا نے ڈسٹرکٹ کورٹ لاہور میں آج بروز منگل 19 جولائی کو نئی درخواست دائر کردی۔ درخواست میں دعا زہرا نے مؤقف اپنا کہ اسے دارالامان منتقل کیا جائے۔
درخواست میں دعا زہرا کا کہنا تھا کہ میری جان کو خطرہ ہے اور مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ عدالت سے استدعا ہے کہ مجھے دارالامان بھیجنے کا حکم دیا جائے۔
مجسٹریٹ رضوان احمد کی جانب سے دعا زہرا کی استدعا قبول کرتے ہوئے دعا زہرا کو لاہور کے دارالامان منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ سندھ ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت میں عدالت نے دعا زہرا کو اس کی مرضی سے جانے کی اجازت دے دی تھی۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ کیس کے تفتیشی افسر نے پولیس سرجن کراچی کے دفتر سے ملنے والی میڈیکل رپورٹ جمع کرائی ہے ، سول اسپتال کراچی کے شعبہ ریڈیو لوجی اور ڈکٹروں کے مطابق دعا زہرا کی عمر 16 سے 17 سال کے درمیان ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ دعا زہرا کو عدالت میں پیش کیا گیا، عدالت کے سامنے یہ بات آئی کہ دعا زہرا کو اغوا کیا یا یرغمال نہیں بنایا گیا، اس نے ظہیر احمد سے شادی کی۔
سندھ ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ درخواست گزار اور اس کے وکیل کا موقف تھا کہ دعا زہرا نابالغ اور اس کی عمر 14 سال سے کم ہے لیکن درخواست گزار کا دعویٰ میڈیکل رپورٹ کے برعکس ہے۔
دعا زہرا کا والدین سے ملنے سے مسلسل انکار
سندھ ہائی کورٹ میں 8 جون کو سماعت مکمل ہونے کے بعد جسٹس جنید غفار نے دعا زہرا سے استفسار کیا کہ کیا وہ اپنے والدین سے ملنا چاہتی ہے۔ دعا نے دوبارہ انکار کیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ تاہم دعا کے انکار کے باوجود عدالت نے والدین سے چیمبر میں ملاقات کی ہدایت کی۔
کیس کا پس منظر
دعا زہرہ اپریل میں اپنے گھر کے باہر سے مبینہ طور پر لاپتا ہوگئی تھی، دعا کے والد مہدی علی کاظمی نے سندھ ہائی کورٹ میں دعا کی بازیابی کے لئے درخواست دائر کی تھی۔
چند روز بعد دعا زہرا کی لاہور میں شادی کی اطلاعات سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آئیں، جس کے بعد 5 جون کو اسے چشتیاں سے بازیاب کرایا گیا۔
سندھ ہائی کورٹ میں 6 جون کو پیشی کے دوران دعا زہرا نے عدالت کے روبرو کہا کہ اسے کسی نے اغوا نہیں کیا ،اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔ عدالت نے دعا زہرا کی عمر کے تعین کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔ میڈیکل ٹیسٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ دعا زہرا کی عمر 14 سال نہیں بلکہ 16 اور 17 سال کے درمیان ہے۔
دعا زہرا کے والدین کی جانب سے بعد ازاں دوبارہ عدالت میں درخواست دائر کی گئی اور سنگل میڈیکل بورڈ کے فیصلے کے خلاف دوبارہ میڈیکل ٹیسٹ کی استدعا کی گئی۔ دعا زہرا کی عمر کا تعین کرنے کیلئے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا۔
نئے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق دعا کی عمر 16سال سے کم ثابت ہوئی۔ پنجاب میرج ایکٹ 2016 کے مطابق شادی غیرقانونی ہے۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق دعا زہرا کی عمر ڈینٹل ایگزامینیشن کے مطابق 13 سے 15 سال کے درمیان میں ہے۔
کراچی کی مقامی عدالت کے حکم پر محکمہ داخلہ سندھ نے 10 رکنی میڈیکل بورڈ بنایا تھا اور میڈیکل کے لیے دعا زہرا کو پولیس کی خصوصی ٹیم ایک دن کے لیے لاہور سے کراچی لائی تھی۔








