بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پرویز الہٰی نے (ن) لیگی رہنماؤں کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کردی

لاہور(نیوزڈیسک) سپیکر پنجاب اسمبلی اور تحریک انصاف کے وزیراعلیٰ پنجاب کے حمایت یافتہ امیدوار پرویز الٰہی ٰ نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔
پرویز الٰہی ٰ کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ہمارے 5 ایم پی ایز غائب کرنے کی دھمکی دی، رانا ثنا اللہ کا یہ بیان توہین عدالت ہے، سپریم کورٹ یکم جولائی کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے الیکشن کا فیصلہ دے چکی ہے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ حمزہ شہباز عدالت کو وزارت اعلیٰ کا الیکشن پرامن طور پر کرانے کی یقین دہانی کراچکے ہیں، رانا ثنااللہ کے بیان سے تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے ممبران میں خوف و ہراس پیداکیاگیا۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ رانا ثنا اللہ عدالتی احکامات کی تعمیل میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں، ضمنی الیکشن میں ناکامی کے بعد متعلقہ فریقین اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے ہیں۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ رانا ثنااللہ ، حمزہ شہباز، مریم اورنگزیب کو عدالت میں طلب کیا جائے، ان تینوں افراد کے خلاف عدالتی حکم عدولی پر توہین عدالت کی سزا دی جائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ 22 جولائی کو ہونے والے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں کچھ بھی ہوسکتا ہے، پنجاب میں ان کے پاس 188 ارکان ہیں جب کہ ہمارے پاس 180 ہیں، صرف 5 ووٹوں کا فرق ہے، 22 جولائی کو وزارت اعلیٰ ملنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔
وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرس کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ اگر اس دن 5 لوگ غیر حاضر رہے تو پرویز الٰہی وزارتِ اعلیٰ ڈھونڈتے پھریں رہیں گے، ہم سمجھتے ہیں پرویز الہیٰ کو آسانی سے وزیراعلیٰ نہیں بننے دیاجانا چاہیے۔
دوسری جانب لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے زبرست طرز عمل کا مظاہرہ کیا کہ انہوں نے اپنی شکست کو تسلیم کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کیا رانا ثنااللہ کو وزیر داخلہ بنانا مسلم لیگ (ن) کی غلطی تھی جو اب ان کے قابو میں نہیں آرہا، انہوں نے کہا آئی بی کے افسرفواد اسداللہ جو ہمارے ایم پی ایز کی لوکیشنز شہباز شریف کے بنائے گئے سیل کو فراہم کر رہے ہیں، ہم ان کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ یہ کام چھوڑ دیں۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح بوری طرح سے یہ حکمران ضمنی انتخاب میں ناکام ہوئے ہیں اس کے بعد یہ اچھے ہھتکنڈوں پر اتر آئے ہیں، آئی بی نے ہمارے ایک دوست کو ایئرپورٹ سے حراست میں لیا، انہیں آنکھوں پر پٹی باندھ کر کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیا اور ان سے تمام چیزیں چھین لیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان نے اپنا اصل چہرہ بے نقاب کرنا شروع کردیا ہے، ہمیں افسوس ہوتا ہے کہ ایسے لوگ سیاست میں ہیں، انہوں نے کبھی ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا، ہم ماضی میں ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرتے رہے ہیں۔
پرویز الٰہی نے کہا کہ ان حکمرانوں نے صرف 4 ماہ میں مہنگائی بڑھادی ہے، پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا ہے لیکن اب تک آئی ایم ایف معاہدے کا کچھ نہیں پتا، مفتاح اسمٰعیل کا مفتہ لگا ہوا ہے، ان سے کچھ ٹھیک نہیں ہو رہا، یہ خواہ مخواہ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما میاں محمود الرشید کا کہنا تھا کہ ان حکمرانوں کے ان اچھے ہھتکنڈوں کے خلاف ہم نے عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پوری قوم کی نظریں لگی ہوئی ہیں، اگر انہوں نے شکست تسلیم کرلی ہے تو کھلے دل کے ساتھ ہمارے مینڈیٹ کو تسلیم کیا جائے اور 22 جولائی کو صاف اور شفاف انتخاب کا انعقاد یقینی بنایا جائے جس کے نتیجے میں چوہدری پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوں گے۔