لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )الیکشن کمیشن میں خانیوال سے مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی فیصل نیازی کا استعفٰیٰ منظور سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران اسپیشل سیکرٹری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو استعفٰی 16 جولائی کو موصول ہوا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کمیشن نے کیسے کسی کا استعفٰی منظور کرنا ہے؟مجھے تو بدنیتی لگتی ہے۔نوٹیفیکیشن کے مطابق 22 مئی سے استعفٰی منظور کیا گیا ہے۔ 22 مئی سے استعفٰی منظور کرنا ممکن نہیں ہے ، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اگر استعفٰی درست تھا تو منظور کرکے الیکشن کمیشن کو بھجوانا چاہیے تھا، کمیشن تو دو ماہ میں الیکشن کرانے کا پابند ہے۔مئی سے اب تک تو دو ماہ کو وقت گزر چکا ہے۔ڈی جی لاء نے بتایا کہ فیصل نیازی کے استعفٰی منظوری کا نوٹیفکیشن 7 جولائی کا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کیس مشکوک لگتا ہے، سیکریٹری پنجاب اسمبلی کو نوٹس جاری کر کے سیکریٹری پنجاب اسمبلی سے جواب اور استعفے کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کر دی گئی۔خیال رہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالٰہی نے مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی فیصل نیازی کا استعفیٰ منظور کر لیا۔فیصل نیازی نے وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کے انتخاب سے قبل اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا۔
فیصل نیازی کا استعفٰی درست تھا تو منظور کر کے الیکشن کمیشن کو بھجوانا چاہیے تھا، چیف الیکشن کمشنر








