امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(Donald trump) ایک بار پھر ایک غیر معمولی اور متنازعہ پریس کانفرنس کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بن گئے، جہاں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس کے باہر مکڈونلڈز کی ڈیلیوری وصول کرنے کے بعد انہوں نے ایران، پوپ اور حضرت عیسیٰؑ سے متعلق سوالات کے جوابات دیے۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا میں تیزی سے وائرل ہو گیا۔
رپورٹس کے مطابق 79 سالہ صدر ٹرمپ، جو فاسٹ فوڈ کے شوقین سمجھے جاتے ہیں، اوول آفس سے باہر آئے اور ڈور ڈیش کی ایک خاتون ڈیلیوری ورکر سے دو بیگز وصول کیے جن میں مکڈونلڈز کے برگر موجود تھے۔ خاتون ڈیلیوری ورکر شیرون سیمنز نے صدر کو آرڈر دیتے ہوئے کہا، “مسٹر صدر، آپ کے لیے ڈور ڈیش آرڈر ہے۔” اس موقع پر میڈیا نمائندے بھی موجود تھے اور ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے کہا، “یہ سب کچھ اسٹیجڈ تو نہیں لگ رہا؟”
یہ پورا منظر دراصل ٹرمپ کی “ٹپس پر ٹیکس نہیں” پالیسی کو اجاگر کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کے نتیجے میں مذکورہ خاتون کو رواں سال تقریباً 11 ہزار ڈالر کا ریبیٹ ملا۔ اسی دوران ایک صحافی نے ان سے وہ متنازعہ سوال پوچھا جس نے کانفرنس کا رخ بدل دیا۔
صحافی نے پوچھا کہ کیا انہوں نے اپنی وہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر خود پوسٹ کی تھی جس میں انہیں حضرت عیسیٰؑ کے روپ میں دکھایا گیا تھا۔ یہ تصویر ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر ہونے کے بعد شدید تنقید کی زد میں آئی تھی، تاہم بعد میں اسے حذف کر دیا گیا تھا۔ اس پر صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ انہوں نے تصویر پوسٹ کی تھی لیکن ان کے مطابق وہ خود کو ایک ڈاکٹر کے روپ میں سمجھ رہے تھے، اور کہا کہ “میں لوگوں کو بہتر بناتا ہوں، میں بہت سے لوگوں کو بہتر کرتا ہوں۔”
مزید پڑھیں:امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ
بعد ازاں سوالات کا رخ ایران کی جانب ہو گیا، جہاں جاری کشیدگی اور امریکی پابندیوں نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان میں ہفتے کے آخر میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہونے کے باوجود ایرانی نمائندوں نے واشنگٹن سے رابطہ کیا ہے اور وہ “بہت بری طرح” معاہدہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی معاہدے کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔
اسی پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے پوپ لیو چہاردہم پر بھی تنقید جاری رکھی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ پوپ ایران کے معاملے پر “غلط” ہیں۔ صدر نے کہا کہ ایران کو جوہری طاقت بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جبکہ پوپ نے اس جنگ کی مخالفت کی تھی۔
کانفرنس کے اختتام پر ایک دلچسپ لمحہ اس وقت سامنے آیا جب ایک صحافی نے خاتون ڈیلیوری ورکر سے پوچھا کہ کیا وائٹ ہاؤس اچھا ٹپ دیتا ہے۔ اس پر صدر ٹرمپ نے فوراً اپنی جیب سے بظاہر 100 ڈالر کا نوٹ نکالا اور خاتون کو دیتے ہوئے کہا، “شکریہ، آپ نے مجھے یاد دلا دیا۔” یہ منظر بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔
یہ پریس کانفرنس امریکی سیاست، ایران بحران اور مذہبی تنازعات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے، جبکہ ناقدین اسےایک سیاسی شو قرار دے رہے ہیں۔









