واشنگٹن میں ایران کی صورتحال پر وائٹ ہاؤس (white house)کے سچویشن روم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت ایک اہم ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، آبنائے ہرمز اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی حکام سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں موجودہ کشیدگی، ممکنہ پیش رفت اور مذاکرات کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ، چیف آف اسٹاف سوزی وائلز، خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ کو نوبل انعام دینے پر کوئی پچھتاوا نہیں، ماریا کورینا ماچاڈو
ذرائع کے مطابق اجلاس میں آبنائے ہرمز کی تازہ صورتحال، ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات اور جنگ بندی کے مستقبل پر غور کیا گیا۔ امریکی حکام نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سفارتی راستے کھلے رکھنے پر زور دیا۔
رپورٹس کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس، جنہوں نے اسلام آباد میں حالیہ سفارتی رابطوں میں امریکی وفد کی قیادت کی تھی، آئندہ ممکنہ مذاکرات میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی 15 روزہ مدت ختم ہونے میں صرف تین روز باقی ہیں۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل ممکنہ معاہدے کی امید ظاہر کر چکے ہیں، تاہم تاحال نئے مذاکرات کی تاریخ یا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کے عاصم منیر اور ایرانی حکام سے براہ راست رابطے اس بات کا اشارہ ہیں کہ واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ سفارتی پیش رفت کے لیے متحرک ہے۔ آنے والے دن ایران امریکا تعلقات اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے لیے انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔









