ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف (Bagher Ghalibaf)نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں کچھ معاملات پر اتفاق ضرور ہوا ہے، تاہم کئی اہم نکات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا دباؤ، دھمکیوں اور ڈیڈ لائنز کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا جس کے بعد اب وہ بالواسطہ ذرائع سے پیغامات بھیجنے پر مجبور ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے عارضی جنگ بندی اس لیے قبول کی تاکہ امریکا کو اپنے مطالبات پورے کرنے کا موقع دیا جا سکے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی اس لیے قبول کی کیونکہ میدان جنگ میں کامیابی ایران کو حاصل ہوئی تھی۔
مزیدپڑھیں:صدر ٹرمپ کواسرائیلی وزیرِ اعظم نے ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا، کملا ہیرس
ایرانی اسپیکر کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے جن میں ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اس کی میزائل و عسکری صلاحیتوں کو تباہ کرنا شامل تھا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران، وینزویلا نہیں ہے۔









