بلوچستان کے تاریخی ہنگلاج ماتا مندر(Hinglaj Mata Mandir) کا تین روزہ سالانہ میلہ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا، میلے میں تقریباً 3 لاکھ ہندو یاتریوں نے شرکت کی۔
ہندو برادری کا یہ مذہبی تہوار بلوچستان کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں شروع ہوا، مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کی ایک مضبوط علامت یہ میلہ اس امید کے اختتام پذیر ہوا کہ ملک بھر میں امن اور مذہبی ہم آہنگی فروغ پائے گی اور اقلیتیں ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے مل کر کام کریں گی۔
بھارت اور نیپال کے بڑے مذہبی اجتماعات کے بعد اسے ہندوؤں کا تیسرا بڑا اجتماع سمجھا جاتا ہے، اس سال تقریباً تین لاکھ یاتریوں نے شرکت کی، جبکہ سال بھر میں لگ بھگ دس لاکھ عقیدت مند اس مزار کا رخ کرتے ہیں۔
حکام کے مطابق اس سال بڑی تعداد میں شرکت اتحاد کا واضح پیغام ہے۔
سندھ کے مختلف علاقوں، بشمول تھرپارکر، عمرکوٹ اور سانگھڑ سے ہزاروں عقیدت مند پیدل ہنگلاج ماتا مندر پہنچے، ان میں سے کئی افراد نے تقریباً 20 دن کا سفر طے کیا، جو ان کے گہرے مذہبی عقیدے اور بین المذاہب ہم آہنگی کی مثال ہے۔
میلے کے پرامن انعقاد کے لیے حکومت بلوچستان، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ نے وسیع انتظامات کیے، پی ڈی ایم اے نے یاتریوں میں راشن اور دیگر ضروری اشیاء تقسیم کیں، جبکہ ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرا بلوچ اور ایس ایس پی نجیب اللہ پندرانی موقع پر موجود رہ کر انتظامات کی نگرانی کرتے رہے۔
مزیدپڑھیں:کوشش ہوگی کہ باقی دو میچز میں اچھا کھیل کر پلے آف میں جگہ پکی کریں، سہیل تنویر
زائرین کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے پاک فوج، فرنٹیئر کور، پولیس اور لیویز کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔
پاکستان کوسٹ گارڈز، پی پی ایچ آئی اور محکمہ صحت لسبیلہ نے مفت طبی کیمپ قائم کیے، جہاں ڈاکٹروں نے سینکڑوں یاتریوں کا معائنہ کیا اور ادویات فراہم کیں۔
شری ہنگلاج ماتا ویلفیئر منڈلی نے بھی 24 گھنٹے لنگر کا انتظام کیا، جہاں تمام شرکا کو مسلسل کھانا، ٹھنڈا پانی، شربت اور چائے فراہم کی گئی۔
منڈلی کے عہدیداران، جن میں صدر مکھی ونود کمار لاسی، جنرل سیکریٹری ویرسی مل کدیوانی اور ترجمان پرکاش کمار لاسی شامل تھے، سینکڑوں رضاکاروں کے ساتھ دن رات یاتریوں کی خدمت میں مصروف رہے۔
متعدد سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی مندر کا دورہ کیا اور مذہبی رسومات میں شرکت کی۔
سینیٹر دانیش کمار نے اس موقع پر کہا کہ یہ مندر ہندو مت کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے، گزشتہ سال کے مقابلے میں تین گنا زیادہ یاتریوں کی آمد بین المذاہب ہم آہنگی اور پاکستان کے محفوظ ملک ہونے کا ثبوت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ میلہ اقلیتوں کے حقوق سے متعلق منفی پروپیگنڈے کا جواب بھی ہے، ہنگلاج ماتا مندر کا یہ میلہ دنیا کو واضح پیغام دیتا ہے کہ پاکستان اقلیتوں کے حقوق کا احترام کرتا ہے اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔









