بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق بڑاحکم جاری کردیا

مظفرآباد ( ممتازرپورٹ) آزاد کشمیر میں 31 سال بعد بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے آزاد جموں کشمیر سپریم کورٹ نے حتمی حکم جاری کردیا، بلدیاتی انتخابات 30 اگست کی بجائے 15 اکتوبر 2022 تک ایک ہی دن میں کرائے جائیں۔
چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی سربراہی میں فل بنچ میں جسٹس خواجہ محمد نسیم، جسٹس رضا علی خان اور جسٹس یونس طاہر نے سماعت کی۔ ایڈووکیٹ جنرل خواجہ محمد مقبول وار کے ہمراہ سیکرٹری بلدیات اور سیکرٹری الیکشن کمیشن سردار غضنفرخان عدالت میں پیش ہوئے۔ حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے طاہر عزیز خان نے پیروی کی۔
عدالتی کارروائی کے آغاز پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل آزاد جموں و کشمیر سے استفسار کیا کہ حکومت کا انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں کیا ارادہ ہے جس ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت عدالتی فیصلہ کی من و عن تعمیل میں سنجیدہ ہے تا ہم انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ چونکہ چونکہ مالیاتی بحران کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی عمل میں آ چکی ہے اور کابینہ کے اراکین کی تبدیلی بھی ہوئی ہے اسی طرح انتظامی مسائل بھی درپیش ہیں لہذا بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لئے سپریم کورٹ کے فیصلہ میں دی گئی میعاد میں نومبر 2022 تک توسیع دی جائے۔
ایڈووکیٹ جنرل آزاد جموں و کشمیر کی استدعا پر سپریم کورٹ نے فیصلے میں دی گئی مدت میں 15 اکتوبر 2022 تک توسیع کرتے ہوئے حکم دیا کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد مرحلہ وار کی بجائے ایک ہی دن اور وقت پر ہو گا۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن سے جب عدالت نے استفسار کیا تو انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں لیکن تا حال حکومت کی جانب سے وسائل اور فنڈز کی فراہمی نہیں ہو سکی۔ڈیمانڈ کردہ رقم جو کہ مبلغ اٹھانوے کروڑ نوے لاکھ روپے بنتی ہے اس میں سے ایک پیسہ بھی جاری نہیں کیا گیا۔ اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ڈیمانڈ کردہ فنڈز کی رقم اٹھانوے کروڑ نوے لاکھ روپے بنتی ہے جس میں سے تیس کروڑ روپے کی منظوری پہلے ہی دی جا چکی ہے۔ چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ اس سلسلے میں حکومت کو عدالت کی جانب سے ناراضی سے آگاہ کیا جائے۔ ایڈووکیٹ جنرل نےیقین دلایا کہ منظور شدہ رقم فوری طور پر جاری کر دی جائے گی اور اس میں ایک ہفتہ سے زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ انتخابات کے لئے ڈیمانڈ کردہ بقیہ رقم بھی ساتھ ساتھ جاری کر دی جائے۔