امریکہ کی معروف تعلیمی درسگاہ جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں منعقدہ چوتھی سالانہ پاک امریکہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ(Rizwan Saeed Sheikh) نے کہا ہے کہ پاکستان کا جغرافیہ ہی نہیں بلکہ اس کا حال اور مستقبل بھی مشرقِ وسطیٰ سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
اپنے کلیدی خطاب میں انہوں نے پاکستان کی جغرافیائی، سیاسی اور اقتصادی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ آٹھ دہائیوں سے پاکستان علاقائی اور عالمی سطح پر بالواسطہ اور بلاواسطہ اہم کردار ادا کرتا آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی و مغربی سرحدوں سے درپیش چیلنجز اور نامساعد حالات کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ امن و سلامتی کے قیام میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ عالمی امن کے قیام کے حوالے سے پاکستان کا کردار کسی تعارف کا محتاج نہیں اور ملک نے ہمیشہ امن کی کوششوں میں صفِ اول میں رہ کر ذمہ داری نبھائی ہے۔ انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ تنازع میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو کامیاب روایت کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ فریقین اور خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے پاکستان پر اعتماد کا اظہار باعثِ اطمینان ہے۔
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں جیوپولیٹکس سے آگے بڑھ کر جیو اکنامکس پر توجہ مرکوز کر رہا ہے، اور ملک چین، وسطی ایشیا اور خلیجی ریاستوں کے درمیان ایک اہم معاشی راہداری فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش جیسے واقعات نے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو مزید واضح کر دیا ہے، تاہم تاریخی حالات اور جغرافیائی چیلنجز نے ملک کی معاشی ترقی کو بھی متاثر کیا ہے۔
مزیدپڑھیں:پاکستان بہترین سفارتکار، معاہدے کی امید برقرار، مذاکرات کا دوسرا دور کل ہوگا: امریکی میڈیا
سفیر پاکستان نے کہا کہ پاکستان قدیم تہذیبوں کا حامل ملک ہے اور آئندہ بھی علاقائی و عالمی امن اور اقتصادی معاملات میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دنیا کا مرکز بنانے کی پیشگوئی آج بھی متعلق اور قابلِ عمل ہے۔
کانفرنس میں معروف امریکی تھنک ٹینکس کے اراکین، سابق سفرا اور ماہرین نے بھی پاکستان کو درپیش چیلنجز، معاشی ترقی اور مستقبل میں اس کے عالمی کردار پر تفصیلی گفتگو کی۔
آخر میں سفیر پاکستان نے کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین، جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ کی قیادت، خصوصاً رائے حسن مسعود کھرل اور غضنفر ہاشمی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔









