اسلام آباد / واشنگٹن (صغیر چوہدری)جاری سفارتی رابطوں کے تناظر میں امریکا اور ایران کے درمیان حساس نوعیت کے مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع (diplomatic sources)کے مطابق 26 اپریل سے قبل کسی پیشرفت کا امکان موجود ہے، اگرچہ ابھی تک کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔
ادھر پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور آرمی چیف سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق بیان نے صورتحال کو مزید اہم بنا دیا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی واضح ٹائم لائن ابھی تک سامنے نہیں آئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور دونوں فریق کسی عبوری معاہدے یا فریم ورک کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر مذاکرات کے اگلے مرحلے کے اعلان نے بھی اس عمل کو تقویت دی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پس پردہ سفارتکاری جاری ہے۔
پاکستان میں بھی اس ممکنہ پیشرفت کے پیش نظر سیکیورٹی اور انتظامی تیاریوں کو تیز کر دیا گیا ہے، جہاں 26 اپریل تک کا ایک اہم ٹائم فریم سامنے آیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدامات کسی ممکنہ ہنگامی صورتحال، اہم عالمی شخصیات کی آمد یا خطے میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں۔
مذاکرات کا مرکزی نکتہ ایران کا جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور خطے میں کشیدگی کا خاتمہ ہے۔ امریکا طویل عرصے سے ایران سے جوہری سرگرمیوں میں شفافیت کا مطالبہ کرتا آیا ہے، جبکہ ایران پابندیوں کے خاتمے کو کسی بھی معاہدے کی بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر 26 اپریل سے قبل کوئی پیشرفت سامنے آتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا اور عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ خاص طور پر تیل کی عالمی منڈی، علاقائی سیکیورٹی اور سفارتی توازن پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
تاہم مبصرین خبردار کرتے ہیں کہ چونکہ جنگ بندی یا معاہدے کی کوئی واضح ڈیڈ لائن موجود نہیں، اس لیے صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔
مزید پڑھیں:امریکہ کا 1.5 ٹریلین ڈالر کا سپردفاعی بجٹ: دنیا میں سرد جنگ کی واپسی؟
اس کے باوجود حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کا عندیہ دے رہی ہیں کہ فریقین کسی حد تک لچک دکھا رہے ہیں اور پیشرفت کے امکانات موجود ہیں۔
—









