اسلام آباد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکا نے تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر کے ایک بڑے دفاعی بجٹ کی تجویز پیش کی ہے، جسے اس کی تاریخ کا سب سے وسیع فوجی مالیاتی منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس بجٹ میں خاص طور پر جوہری ہتھیاروں(neculair wepons) کی جدید کاری کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے، جس نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ منصوبہ United States Department of Defense کے تحت نہ صرف روایتی دفاعی اخراجات کو بڑھانے بلکہ مستقبل کی جنگی حکمت عملی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم سب سے زیادہ توجہ اس پہلو نے حاصل کی ہے کہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ امریکا کے جوہری اثاثوں کی اپ گریڈیشن پر خرچ کیا جائے گا۔
اس میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائلز، اسٹریٹجک بمبار طیارے اور آبدوزوں سے داغے جانے والے میزائل سسٹمز شامل ہیں، جنہیں مزید جدید اور مؤثر بنایا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق امریکا اپنی “نیوکلئیر ٹرائیڈ” کو زیادہ تیز رفتار، خودکار اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا چاہتا ہے، جبکہ پرانے ہتھیاروں کو بتدریج تبدیل کیا جائے گا۔ حکام اس اقدام کو دفاعی حکمت عملی اور “ڈیٹرنس” کا حصہ قرار دیتے ہیں، یعنی دشمن کو حملے سے روکنا۔
تاہم ناقدین کا مؤقف مختلف ہے۔ ان کے مطابق اس سطح پر جوہری صلاحیت میں اضافہ دنیا کو ایک نئی اسلحہ دوڑ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ China اور Russia بھی اس کے جواب میں اپنی عسکری طاقت بڑھا سکتے ہیں، جس سے سرد جنگ جیسا ماحول دوبارہ جنم لے سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق امریکا کا دفاعی بجٹ دیگر بڑی طاقتوں سے کہیں زیادہ ہے۔ چین، روس اور India کے مقابلے میں یہ کئی گنا زیادہ بنتا ہے، جو اس کی عالمی عسکری برتری کو مزید مستحکم کرتا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا اس بجٹ کو اپنی اور اپنے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیتا ہے، لیکن جوہری ہتھیاروں کی اس پیمانے پر جدید کاری دنیا کو ایک خطرناک موڑ پر لا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:ہیوی ٹریفک کی بندش، اٹک ریفائنری کا مین ڈسٹیلیشن یونٹ بند کردیا گیا
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے نہ صرف اسلحہ کی دوڑ میں تیزی آئے گی بلکہ جوہری تنازعات کے خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
—









