بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

تمباکو نوشی سے ہمیشہ دور رہنے والوں میں لنگز کینسر عام ہونیکی حیرت انگیز وجہ ؟

پھیپڑوں کا کینسر دنیا میں سرطان کی سب سے زیادہ عام قسم ہے اور عموماً تمباکو نوشی کے عادی افراد میں اس کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔مگر حالیہ برسوں میں زیادہ تر ایسے افراد میں پھیپھڑوں کے کینسر(lungs cancer) کی تشخیص ہوئی ہے جو زندگی بھر تمباکو نوشی سے دور رہے ہیں۔

مگر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اس کا حیرت انگیز جواب امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں دیا گیا۔سدرن کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق کے نتائج تمام روایتی تصورات سے مختلف ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ صحت کے لیے مفید غذا جیسے پھلوں، سبزیوں اور سالم اناج کے زیادہ استعمال سے جوان یا تمباکو نوشی سے دور رہنے والے افراد میں پھیپھڑوں کے کینسر سے متاثر ہونے کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق حالیہ برسوں میں جوان افراد میں پھیپھڑوں کے کینسر کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا اور مریض اکثر پوچھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا، حالانکہ وہ تمباکو نوشی بھی نہیں کرتے۔

اس تحقیق میں 50 سال یا اس سے کم عمر 187 افراد پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔تحقیق کے مطابق عموماً پھیپھڑوں کے کینسر کی شرح 71 سال کی عمر کے افراد میں زیادہ ہوتی ہے، خاص طور پر مردوں اور تمباکو نوشی کے عادی افراد میں۔

مگر تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ امریکا میں 1980 کی دہائی سے تمباکو نوشی کی شرح میں کمی آئی اور پھیپھڑوں کے کینسر کے کیسز کی تعداد بھی گھٹ گئی مگر 50 سال یا اس سے کم عمر ایسے جوان افراد جو تمباکو نوشی سے دور رہتے ہیں، ان میں کینسر کی اس قسم کے کیسز بڑھ گئے۔صرف امریکا میں ہی پھیپھڑوں کے کینسر کے 10 فیصد کیسز 55 سال سے کم عمر افراد میں ریکارڈ ہوتے ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو افراد پھلوں، سبزیوں اور سالم اناج پر مبنی صحت کے لیے مفید غذاؤں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان میں پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

اس حوالے سے مزید تفصیلات جاننے کے لیے 50 سال کی عمر یا اس سے قبل پھیپھڑوں کے کینسر کا سامنا کرنے والے افراد میں سروے کیا گیا اور مرض کی تشخیص، غذائی عادات اور تمباکو نوشی کی تاریخ وغیرہ کے بارے میں معلوم کیا گیا۔

نتائج میں معلوم ہوا کہ بیشتر مریضوں نے زندگی میں کبھی تمباکو نوشی نہیں کی تھی اور ان میں پھیپھڑوں کے کینسر کی ایسی قسم زیادہ عام تھی جو تمباکو نوشی کے عادی افراد میں دیکھنے میں نہیں آتی۔

محققین نے بتایا کہ یہ بات تشویشناک ہے کہ 40 سال سے کم عمر افراد میں پھیپھڑوں کے کینسر سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور ایسا ممکنہ طور پر جینیاتی تبدیلیوں کے باعث ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تحقیق کے نتائج اتنے زیادہ حیران کن تھے کہ شروع میں تو ہم فیصلہ نہیں کرسکے کہ ان کی وضاحت کیسے کریں۔ماہرین نے مزید بتایا کہ ایسا ممکنہ طور پر ماحولیاتی عناصر جیسے خوراک میں کیڑوں مار ادویات کے زیادہ استعمال کے باعث ہو رہا ہے۔

تحقیق میں ایک حیرت انگیز انکشاف یہ بھی ہوا کہ مردوں کے مقابلے میں صحت بخش غذاؤں کا استعمال کرنے والی خواتین میں کینسر کی اس قسم کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے یا تمباکو نوشی سے دور رہنے والے بھی اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اس سے قبل فروری 2025 میں Lancet Respiratory Medicine journal میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ تمباکو نوشی سے دور رہنے والے افراد میں پھیپھڑوں کے کینسر کی شرح میں اضافے کی وجہ فضائی آلودگی ہے۔

انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کے مطابق 2022 میں فضائی آلودگی کے باعث تمباکو نوشی سے دور رہنے والے 2 لاکھ افراد میں پھیپھڑوں کے کینسر کی ایک قسم adenocarcinoma کی تشخیص ہوئی۔

دوپہر کی نیند کو معمول بنانے سے صحت پر مرتب ہونیوالے اہم اثر کا انکشاف۔تحقیق میں بتایا گیا کہ فضائی آلودگی پھیپھڑوں کے کینسر کی اس قسم کے پھیلاؤ میں کردار ادا کر رہی ہے خاص طور پر مشرقی ایشیا کا خطہ زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں:تمباکو نوشی سے ہمیشہ دور رہنے والوں میں لنگز کینسر عام ہونیکی حیرت انگیز وجہ ؟

محققین نے بتایا کہ نتائج سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہمیں پھیپھڑوں کے کینسر کے پھیلاؤ کے خطرے میں آنے والی تبدیلی کو باریک بینی سے مانیٹر کرنا چاہیے۔