بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان علاقائی حاشیے سے مرکزی کردار تک

معروف امریکی جریدے The National Interest میں شائع ہونے والے ایک تجزیاتی مضمون میں پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی سفارتی اور سیکیورٹی طاقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس کا اثر و رسوخ اب صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہا بلکہ مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ جغرافیائی سیاست تک پھیل چکا ہے۔

تجزیے کے مطابق پاکستان اب خطے کے سفارتی حاشیے سے نکل کر بحرانوں کے انتظام میں ایک مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی جنگ بندی کی کوششوں میں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ عرصے میں Syed Asim Munir کو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی اور عارضی جنگ بندی کے لیے ہونے والی سفارتی کوششوں میں ایک اہم کردار ادا کرنے کا کریڈٹ دیا گیا ہے۔ تجزیے کے مطابق اسلام آباد میں 12 اور 13 اپریل کے مذاکرات ایک غیر معمولی سفارتی لمحہ تھے، جن میں فریقین کو پہلی بار براہ راست رابطے میں لایا گیا۔

مضمون میں پاکستان کی ملٹری ڈپلومیسی کو قابل اعتماد، منظم اور مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے جب روایتی سفارتی چینلز تعطل کا شکار ہوں۔ عسکری قیادت کی براہ راست رسائی، فیصلہ سازی کی رفتار اور سیکیورٹی سطح پر ضمانت دینے کی صلاحیت کو اس کا بنیادی عنصر قرار دیا گیا ہے۔

تجزیے کے مطابق پاکستان کے دفاعی تعلقات بھی اس کے سفارتی وزن میں اضافہ کر رہے ہیں، خصوصاً چین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، مصر اور اردن جیسے ممالک کے ساتھ سیکیورٹی روابط۔ ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کو خطے میں ایک اہم اسٹریٹجک پیش رفت کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

مزیدپڑھیں:پراپرٹی کی خریدو فروخت کرنے والوں کیلئے بڑی خبر
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ بحرانوں، غزہ جنگ بندی اور بین الاقوامی استحکام کی کوششوں میں پاکستان کا کردار بھی نمایاں ہوا ہے، جہاں اسے ایک ممکنہ سیکیورٹی اور سفارتی معاون کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ یہ بھی بتاتا ہے کہ عالمی سطح پر روایتی ثالثی کردار کمزور ہونے، علاقائی تقسیم بڑھنے اور اقوام متحدہ جیسے اداروں کی محدود مؤثریت کے باعث ایک سفارتی خلا پیدا ہوا ہے، جسے پاکستان جزوی طور پر پر کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ تجزیہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی اعتراف ہے کہ وہ اب ایک ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں اس کی عسکری اور سفارتی صلاحیتیں اسے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مؤثر کردار ادا کرنے والا فریق بنا رہی ہیں۔