پہلگام واقعے کے بعد بھارت کو سیکیورٹی اور انٹیلیجنس ناکامیوں پر شدید تنقید کا سامنا ہے، جبکہ حکومت اب تک اٹھنے والے اہم سوالات کے تسلی بخش جوابات دینے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ واقعے کو ایک سال گزرنے کے باوجود نہ تو شفاف تحقیقات سامنے آ سکیں اور نہ ہی ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکا، جس کے باعث عوامی حلقوں میں شکوک و شبہات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مختلف رپورٹس کے مطابق بھاری فوجی موجودگی کے باوجود اس نوعیت کا واقعہ پیش آنا سیکیورٹی نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ عوامی و سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حساس علاقے میں اتنی بڑی سیکیورٹی موجود تھی تو پھر واقعہ کیسے پیش آیا، اور اس کے تدارک کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔
بین الاقوامی میڈیا، خصوصاً BBC کی ایک رپورٹ میں بھی اس واقعے سے متعلق کئی اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں، تاہم بھارتی حکومت کی جانب سے اس پر کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔ رپورٹ میں سیکیورٹی خامیوں، انٹیلیجنس کی ناکامی اور واقعے کے بعد کے ردعمل کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔
ادھر بھارت کے اندر بھی اپوزیشن جماعتوں اور مختلف سیاسی رہنماؤں نے پہلگام واقعے کو سیکیورٹی فیلئیر قرار دیتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ کشمیر کے مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف خطے میں عدم استحکام کو بڑھاتے ہیں بلکہ عام شہریوں کے اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
عوامی سطح پر یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ حکومت داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اس واقعے کو ایک مخصوص بیانیے کے تحت پیش کر رہی ہے، تاہم شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے اس بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دفاعی و بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق بھارت پر ماضی میں بھی ایسے واقعات کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر اس کے مؤقف کو مکمل پذیرائی نہیں مل سکی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد بھی بھارتی بیانیہ بین الاقوامی سطح پر مضبوط انداز میں سامنے نہیں آ سکا، جس سے اس کی ساکھ پر اثر پڑا ہے۔
مبصرین کے مطابق اگر بھارت اس معاملے پر شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات نہیں کراتا تو نہ صرف اندرونی سطح پر اعتماد کا بحران بڑھے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔
پہلگام فالس فلیگ، سیکیورٹی و انٹیلیجنس ناکامی پر بھارت جواب دینے سے قاصر








