بھارتی حکام نے جامعہ سراج العلوم کو بند کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے ادارے کے تمام اثاثے ضبط کرنے کی ہدایت دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی بھارت کے متنازع قانون(disputed laws) یو اے پی اے کے تحت کی گئی۔
ڈویژنل کمشنر کی جانب سے جاری حکم نامے کے بعد کشمیری حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، جہاں اس اقدام کو مذہبی آزادی اور تعلیمی اداروں کے حقوق کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔
کشمیر کی یہ معروف اور قدیمی درسگاہ طویل عرصے سے دینی تعلیم فراہم کر رہی تھی۔ مختلف سماجی اور مذہبی حلقوں نے اس اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے اسے مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔
اس انتہائی جنونی بھارتی اقدام پر مذہبی آزادی سے متعلق نئے سوالات اٹھ گئے۔کشمیری مسلمانوں کی قدیمی درسگاہ بند، مختلف حلقوں کا شدید ردعمل۔جامعہ سراج العلوم کے خلاف کارروائی، مذہبی حقوق پر بحث تیز
مزید پڑھیں:اندھیرنگری،102 یونٹ کا بل 11800روپے، کامل علی آغا پاورڈویژن پر برس پڑے
تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت کے بعد خطے میں مذہبی آزادی اور انسانی حقوق سے متعلق بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔









