گرین پاکستان انیشیٹو(Green Pakistan Initiative) کے تحت جدید زرعی اصلاحات کی بدولت بنجر زمینوں کی بحالی اور زرعی پیداوار میں اضافے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
گرین امپیکس پرائیویٹ لمیٹڈ کے بزنس مینجر محمد ابو بکر کے مطابق 1500 ایکڑ بنجر رقبے کو جدید طریقے سے قابلِ کاشت بنا کر روڈ گراس اور الفالفا جیسی فصلیں اگائی جا رہی ہیں۔ ان فصلوں کا 20 فیصد مقامی ڈیری فارمز کی ضروریات کیلئے جبکہ 80 سے 90 فیصد برآمد کیا جا رہا ہے۔
محمد ابو بکر نے بتایا کہ سنٹرل پیوٹ ایریگیشن کے موثر استعمال سے 40 فیصد پانی کی بچت کر کے روزانہ 150 ایکڑ زمین سیراب کی جا رہی ہے۔
سپروائزر گرین امپیکس پرائیویٹ لمیٹڈ محمد مدثر کے مطابق جدید ویدر اسٹیشن سے موسمی صورتحال کا بروقت جائزہ لے کر فصلوں سے متعلق بہتر فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا تسلسل برقرار
سی ای او گرین امپیکس پرائیویٹ لمیٹڈ گلزار احمد نے کہا کہ جی پی آئی کے تحت گرین ایگری مال کے ذریعے مشینری، سنٹرل پیوٹ سسٹمز سمیت تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ گرین پاکستان انیشیٹو کی بدولت بنجر علاقہ زرعی اور سرسبز رقبے میں تبدیل ہو چکا ہے۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرین پاکستان انیشیٹو سعد احسن کے مطابق جی پی آئی بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنا کر معیشت، سماجی ترقی اور فوڈ سیکیورٹی کو فروغ دے رہا ہے۔









