فیفا نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے افغان خواتین فٹبالرز کو بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کا نیا موقع فراہم کر دیا ہے۔
اس اقدام کے تحت وہ کھلاڑی جو طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئی تھیں، اب دوبارہ عالمی سطح پر کھیل سکیں گی۔
افغانستان کی خواتین قومی ٹیم نے 2021 میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے کوئی باضابطہ بین الاقوامی میچ نہیں کھیلا، کیونکہ طالبان حکومت نے خواتین کی تعلیم، ملازمت اور کھیلوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
ان حالات کے باعث کئی باصلاحیت کھلاڑی یا تو جلاوطنی اختیار کر گئیں یا کھیل سے کنارہ کش ہو گئیں۔
مزیدپڑھیں:کینیڈین امیگریشن حکام کا نامناسب رویہ، ایرانی حکام کا فیفا کانگریس میں شرکت سے انکار
گزشتہ سال منظور ہونے والی فیفا کی نئی حکمت عملی افغان ویمن یونائیٹڈ کے قیام کی بنیاد بنی۔ یہ ٹیم بیرون ملک مقیم افغان خواتین کھلاڑیوں کو منظم انداز میں کھیلنے کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔
FIFA has approved a rule change allowing exiled Afghan women footballers to compete in international matches as Afghanistan’s national team. Former captain Khalida Popal called it a “historic” recognition. pic.twitter.com/EHUTjVXYJR
— AJE Sport (@AJE_Sport) April 29, 2026
فیفا کے صدر کے مطابق یہ اقدام نہ صرف افغان خواتین کے لیے امید کی کرن ہے بلکہ ان دیگر ممالک کے لیے بھی مثال ہے جہاں ٹیمیں مختلف وجوہات کی بنا پر بین الاقوامی سطح پر رجسٹر نہیں ہو پاتیں۔
اس وقت انگلینڈ اور آسٹریلیا میں کھلاڑیوں کے انتخابی کیمپ جاری ہیں جبکہ آئندہ میچز جون کے بین الاقوامی ونڈو میں متوقع ہیں۔









