علاقائی سلامتی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں عالمی شدت پسند تنظیم Al-Qaeda کی جانب سے افغان طالبان کی حمایت سے متعلق بیانات زیرِ بحث ہیں، جس پر سیکیورٹی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق Afghan Taliban کے زیرِ اثر افغانستان میں مختلف شدت پسند گروہوں کی موجودگی سے خطے کی صورتحال پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ القاعدہ کی قیادت نے ایک بیان میں طالبان کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔
پاکستانی حکام کے مطابق ملک نے حالیہ عرصے میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں، جن کے نتیجے میں شدت پسند نیٹ ورکس کو نقصان پہنچا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے بعد بعض گروہوں کی جانب سے سخت ردعمل بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:لوگوں کو کم لاگت پر اپنی چھت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، وزیرِ اعظم
دوسری جانب United Nations ماضی میں بھی اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہیں ہونی چاہیے، اور اس سلسلے میں عالمی سطح پر مسلسل تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین اپنی سرزمین کو غیر ریاستی عناصر کے استعمال سے روکیں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی شدت پسندی یا پراکسی سرگرمیاں نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔









