بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اسلام آباد میں پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی کا دو روزہ خصوصی تربیتی کورس کامیابی سے مکمل

پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی (PACA) نے اسلام آباد میں 28 اور 29 اپریل 2026 کو “منی لانڈرنگ اور نیب کیسز میں اوپن سورس انٹیلی جنس (OSINT) کا استعمال” کے عنوان سے دو روزہ خصوصی تربیتی کورس کا کامیاب انعقاد کیا۔

اس کورس کا مقصد مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تفتیشی طریقہ کار کو جدید بنانا تھا تاکہ افسران عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا کو استعمال کر کے مالیاتی جرائم کا بہتر مقابلہ کر سکیں۔ اس تربیت میں نیب کے افسران، پراسیکیوٹرز اور دیگر اداروں کے اہلکاروں شریک تھے۔

افتتاحی سیشن کی صدارت کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل (PACA) سید غلام صفدر شاہ نے کہا کہ یہ تربیت چیئرمین نیب کے وژن کے مطابق ہے تاکہ تفتیشی نظام کو جدید بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ منی لانڈرنگ اور کرپشن کے کیسز ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور عالمی نیٹ ورکس کی وجہ سے پیچیدہ ہو گئے ہیں، اس لیے روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ ڈیٹا پر مبنی معلومات کا استعمال بھی ضروری ہے۔ انہوں نے شرکاء کو مالیاتی لین دین کا کھوج لگانے اور چھپے ہوئے روابط کو بے نقاب کرنے کی عملی مہارتیں سیکھنے پر زور دیا تاکہ احتساب کے عمل کو شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔

مزیدپڑھیں:عالمی دہشت گردتنظیم القاعدہ کی افغان طالبان کی کھلی حمایت،پاکستانی موقف ایک بار پھردرست ثابت

تربیتی سیشنز کے دوران ماہرین نے شرکاء کو عملی مشقیں کروائیں ۔ سرٹیفائیڈ ماسٹر ٹرینر محمد عاقب نے  شرکا      کو  روزمرہ کی تفتیش میں استعمال ہونے والے  آلات  سے متعار ف کروایا  جو نیب قوانین (NAO) کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ثبوت اکٹھے کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اسی طرح یو این او ڈی سی (UNODC) کے پروگرام آفیسر عمیر نذر نے کرائم اینالیٹکس پر سیشن کیا اور بتایا کہ کیسے انٹیلی جنس کی بنیاد پر جرائم کو پہلے سے بھانپا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، فرحان نوازش نے ڈیجیٹل کرنسی اور بلاک چین کے غلط استعمال پر روشنی ڈالی اور ورچوئل ٹرانزیکشنز کی نگرانی کے طریقے بتائے۔

اختتامی کلمات میں ڈائریکٹر جنرل (PACA) نے افسران کی پیشہ ورانہ مہارتوں میں اضافے کو سراہا اور کہا کہ یہ جدید ٹولز ثبوتوں پر مبنی تفتیش میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ تقریب کے آخر میں شرکاء میں سرٹیفکیٹ تقسیم کیے گئے، جو پاکستان میں بدعنوانی کے خاتمے اور مقدمات کے جلد فیصلے کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے۔