بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

دہلی کے اسپتال میں موجود افغان کرکٹر زندگی اور موت کی جنگ ہارنے لگے

نئی دہلی میں زیر علاج سابق افغان فاسٹ بولر شاپور زدران(Shapoor Zadran) اس وقت زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں اور انہیں فوری طور پر خون کی ضرورت ہے۔ ان کے اہلِ خانہ نے عوام سے خون کا عطیہ دینے کی اپیل کی ہے۔

30 سالہ شاپور زدران ایک نایاب اور جان لیوا بیماری ’ہیموفیگوسائٹک لیمفو ہسٹیوسائٹوسس‘ میں مبتلا ہیں۔ یہ بیماری جسم میں شدید سوزش پیدا کرتی ہے جس سے ہڈیوں کا گودا، جگر، تلی اور لمف نوڈز متاثر ہوتے ہیں۔ اس وقت وہ نئی دہلی کے ایک اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل ہیں اور ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

شاپور زدران کے چھوٹے بھائی غمائی زدران نے سوشل میڈیا پر ایک جذباتی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا، ”میرے بھائی، ہمارے قومی ہیرو شاپور زدران اس وقت شدید بیماری میں مبتلا ہیں۔ ہم آپ کی دعاؤں کے ساتھ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ خون کی شدید کمی کے باعث انہیں فوری طور پر خون کی ضرورت ہے۔“

شاپور زدران اکتوبر گزشتہ سال بیمار ہوئے تھے، جس کے بعد انہیں بھارت میں علاج کا مشورہ دیا گیا۔ افغان کرکٹر راشد خان اور افغانستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین میرویس اشرف کی مدد سے ان کا ویزا جلدی جاری ہوا اور انہیں 18 جنوری کو نئی دہلی کے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔

مزیدپڑھیں:ڈان 3 سے رنویر سنگھ کی علیحدگی، “سخت زبان” پر اختلاف کو وجہ قرار دیا گیا

مارچ کے آخر میں ہونے والے بون میرو ٹیسٹ سے تصدیق ہوئی کہ وہ ’ایچ ایل ایچ‘ کے چوتھے مرحلے میں ہیں، جو بیماری کا انتہائی خطرناک درجہ سمجھا جاتا ہے۔

غمائی زدران نے ایک انٹرویو میں بتایا، ”ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ ہم باقاعدگی سے چیک اپ کے لیے آ سکتے ہیں۔ شاپور تقریباً 20 دن تک بہتر محسوس کر رہے تھے، لیکن پھر انہیں دوبارہ انفیکشن ہو گیا اور ہم نے انہیں اسپتال میں داخل کرا دیا۔“

انہوں نے مزید کہا، ”انہیں بخار ہوا اور پھر ان کا ڈینگی ٹیسٹ مثبت آیا۔ ان کا مدافعتی نظام بہت کمزور ہو چکا ہے کیونکہ ان کے سرخ خون کے خلیات کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے۔ وہ شدید کمزوری کا شکار ہیں، لیکن ہمیں امید ہے کہ وہ آہستہ آہستہ بہتر ہوں گے۔ حال ہی میں دی جانے والی سٹیرائیڈ ادویات سے کچھ بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں، جس سے ہمیں امید ملی ہے۔“

شاپور زدران نے 2009 سے 2020 کے درمیان افغانستان کی جانب سے 44 ون ڈے اور 36 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے اور ٹیم کے اہم کھلاڑیوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے چاہنے والے اور کرکٹ حلقے ان کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔