بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

روزانہ برش کرنے کے باوجود دانت کیوں ٹوٹ جاتے ہیں؟ وجہ جانیے

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب عمر بڑھتی ہے تو جسم میں ہونے والی مختلف تبدیلیوں کے ساتھ دانت (Teeth)کا گرنا بھی ایک قدرتی عمل ہے، لیکن جدید سائنس اس مفروضے کی نفی کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صحیح دیکھ بھال اور طرزِ زندگی اپنایا جائے تو انسان ایک طویل عرصے تک اپنے اصلی دانتوں کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ بلکہ زیادہ دیر تک کیسز میں دانتوں کو زندگی بھر کے لیے محفوظ بھی رکھا جا سکتا ہے۔

انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق روبی ہال کلینک کے چیف ڈینٹل سرجن ڈاکٹر سچیو نندا کہتے ہیں، دانت اچانک نہیں گرتے، بلکہ یہ دہائیوں پر محیط غفلت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے دو بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

مسوڑھوں کی بیماری

مسوڑھوں کی سوزش شروع شروع میں معمولی لگتی ہے، لیکن اگر اسے نظر انداز کردیا جائے تو یہ ایک سنگین بیماری میں بدل سکتی ہے۔

یہ مرض دانتوں پر پلاک کے جمنے سے شروع ہوتا ہے۔ اگر اسے بروقت صاف نہ کیا جائے تو یہ مسوڑھوں اور دانتوں کو سہارا دینے والی ہڈی کو تباہ کر دیتا ہے۔

کیویٹیز (کیڑا لگنا)

میٹھی اشیاء کا زیادہ استعمال اور صفائی کی کمی سے دانتوں میں کیڑا لگ جاتا ہے، اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ آہستہ آہستہ دانت کی جڑ تک پہنچ کر اسے مکمل طور پر تباہ کردیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر بڑھنے سے دانت خودبخود نہیں گرتے، البتہ عمر کے ساتھ کچھ عوامل خطرہ ضرور بڑھا دیتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:دہلی کے اسپتال میں موجود افغان کرکٹر زندگی اور موت کی جنگ ہارنے لگے

منہ کا خشک رہنا: بڑھتی عمر میں بلڈ پریشر یا دیگر امراض کی ادویات تھوک کی مقدار کم کر دیتی ہیں، جس سے جراثیم کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔

مدافعتی نظام کی کمزوری: ذیابیطس جیسے امراض مسوڑھوں کی انفیکشن سے لڑنے کی صلاحیت کو کم کر دیتے ہیں۔

دانتوں کی گھساوٹ: دہائیوں تک سخت چیزیں چبانے سے دانتوں کی حفاظتی تہہ پتلی ہو جاتی ہے۔

محض برش کرنا کافی نہیں، ماہرین کے مطابق چند آسان عادات اپنا کر دانتوں کو لمبے عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

برش کرنے کا صحیح طریقہ

صرف برش کرنا اہم نہیں بلکہ 45 ڈگری کے زاویے پر مسوڑھوں کے ساتھ نرمی سے برش کرنا ضروری ہے۔ سخت برش دانتوں کی اینمل کو نقصان پہنچاتا ہے۔

زبان کی صفائی

زبان پر موجود بیکٹیریا سانس کی بو اور دانتوں کی خرابی کا باعث بنتے ہیں، اس لیے ٹنگ کلینر کا استعمال لازمی کریں۔

پانی کا زیادہ استعمال

پانی نہ صرف منہ کو صاف رکھتا ہے بلکہ تیزابیت کو بھی ختم کرتا ہے جو دانتوں کو گھلانے کا باعث بنتی ہے۔

وٹامن سی اور کیلشیم

مسوڑھوں کی مضبوطی کے لیے وٹامن سی (لیمو، مالٹا) اور دانتوں کی ہڈی کے لیے کیلشیم (دودھ، دہی) کو خوراک کا حصہ بنائیں۔

دانتوں کی صحت کا تعلق براہِ راست دل کی صحت سے بھی ہے۔ مسوڑھوں کی بیماریوں کے جراثیم خون کے ذریعے دل تک پہنچ کر پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ لہذا، ہر 6 ماہ بعد ڈینٹسٹ سے معائنہ کروانا نہ صرف دانتوں بلکہ مجموعی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔

آپ کی مسکراہٹ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ بڑھاپا آپ سے آپ کے دانت نہیں چھینتا، بلکہ دانتوں کی دیکھ بھال میں کی گئی سستی آپ کو مصنوعی دانتوں کی طرف دھکیلتی ہے۔