چینی صدر شی جن پنگ(Xi Jinping) رواں ماہ کے آخری دو ہفتوں کے دوران بیجنگ میں تین عالمی رہنماؤں کا استقبال کریں گے، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، روسی صدر ولادی میر پوٹن اور پاکستان کے وزیر اعظم شہبازشریف شامل ہیں۔
شہبازشریف کے وفد میں جنرل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحق ڈار کے علاوہ متعدد دیگر وزرا بھی شریک ہوں گے۔ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کے پس منظر میں ہونے والے یہ مسلسل دورے عالمی منظرنامے پر چین کے کردار اور اثر و رسوخ کی عکاسی کرتے ہیں۔
اعلیٰ سفارتی ذرائع نے ہفتے کے روز دی نیوز/جنگ کو بتایا کہ تینوں دوروں کے اپنے مخصوص دوطرفہ پہلو ہوں گے، تاہم ایران کے خلاف جارحیت اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مہمان رہنماؤں اور میزبان صدر کے درمیان ہونے والی بات چیت میں نمایاں موضوع ہوگی۔
ذرائع کے مطابق صدر شی جن پنگ، جو عہدہ سنبھالنے کے بعد اوسطاً ہر سال 48 عالمی رہنماؤں سے ملاقات کرتے ہیں، بیرونِ ملک دورے زیادہ فراخ دلی سے نہیں کرتے۔
مزیدپڑھیں:ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ ڈویژن فارمولا، آئی سی سی کی ممکنہ دستبرداری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ جمعرات کو ایران پر حملے کے پس منظر کے ساتھ بیجنگ پہنچیں گے اور غالب امکان ہے کہ وہ اپنے میزبانوں سے تجارت اور اقتصادی تعلقات پر گفتگو کریں گے، تاہم صدر شی جن پنگ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع، خصوصاً ایران کے معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر زیرِ بحث لائیں گے۔









