بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

جاپان کاہائپرسونک طیارے کے انجن کا کامیاب تجربہ

جاپان (Japan)کے سائنسدانوں نے ہوا بازی کی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے تجرباتی’’میک 5‘‘ طیارے کیلئے ریم جیٹ انجن کے کامیاب کمبسشن ٹیسٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں جاپان سے امریکا کا فضائی سفر صرف دو گھنٹوں میں ممکن بنا سکتی ہے۔

یہ تاریخی تجربہ اپریل 2026 میں جاپانی ماہرین کی ایک مشترکہ ٹیم نے انجام دیا، جس میں Waseda University اور Japan Aerospace Exploration Agency کے محققین شامل تھے۔ تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کو 2040 کی دہائی تک عملی استعمال کیلئے تیار کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ریم جیٹ انجن ایک ایسا جدید انجن ہے جو انتہائی تیز رفتار پر کام کرتا ہے اور روایتی جیٹ انجن کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ رفتار حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مجوزہ ہائپرسونک طیارہ تقریباً میخ 5 کی رفتار سے سفر کرے گا، یعنی آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ۔ اس رفتار کو زمینی پیمانے پر دیکھا جائے تو طیارہ تقریباً 5 ہزار 400 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکے گا۔

مزیدپڑھیں:محکمہ موسمیات کی ملک کے بیشتر علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

رپورٹ کے مطابق یہ جدید طیارہ زمین سے تقریباً 25 کلومیٹر بلندی پر پرواز کرے گا، جو عام مسافر طیاروں کی نسبت دوگنا سے بھی زیادہ اونچائی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس میں راکٹ انجن بھی نصب کر دیا جائے تو یہ 100 کلومیٹر کی بلندی تک پہنچ کر خلا کی سرحد میں داخل ہونے کی صلاحیت بھی حاصل کر سکتا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کے مطابق اس منصوبے کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ طیارہ عمودی نہیں بلکہ عام جہازوں کی طرح افقی انداز میں ٹیک آف اور لینڈنگ کرے گا، جس کی وجہ سے موجودہ ایئرپورٹس اور رن ویز کو استعمال کیا جا سکے گا۔

ہوابازی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو مستقبل میں بین الاقوامی فضائی سفر کی نوعیت مکمل طور پر تبدیل ہو سکتی ہے۔ جاپان سے امریکا جیسے طویل سفر چند گھنٹوں تک محدود ہو جائیں گے جبکہ خلا تک تجارتی سفر بھی نسبتاً آسان اور کم خرچ بنایا جا سکے گا۔

واضح رہے کہ ماضی میں دنیا کا مشہور سپر سونک مسافر طیارہ Concorde تقریباً میخ 2 کی رفتار سے پرواز کرتا تھا، تاہم اسے 2003 میں سروس سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اب جاپان کی نئی تحقیق کو ہائپرسونک فضائی سفر کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔