ایمانویل میکرون(Emmanuel Macron) اور ان کی اہلیہ بریجیٹ میکرون ایک بار پھر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ فرانسیسی صدر اور خاتون اول کے تعلقات سے متعلق ایک نئی کتاب میں ایسے دعوے سامنے آئے ہیں۔
جنہوں نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مئی 2025 میں ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں پیش آنے والا وہ مشہور واقعہ، جس میں مبینہ طور پر خاتون اول نے صدر میکرون کو طیارے کے اندر تھپڑ مارا تھا، دراصل ذاتی تنازع کا نتیجہ تھا۔
کتاب کے مصنف کے مطابق ایمانویل میکرون اور ایرانی نژاد معروف اداکارہ گل شفتے فرحانی کے درمیان کئی ماہ تک قریبی روابط رہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں شخصیات کے درمیان نجی پیغامات کا تبادلہ بھی ہوتا رہا، جن میں بعض پیغامات غیرمناسب نوعیت کے تھے۔ کتاب میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ فرانسیسی صدر نے ایک پیغام میں اداکارہ کی خوبصورتی کی تعریف کرتے ہوئے انہیں “انتہائی خوبصورت” قرار دیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق بریجیٹ میکرون کو ان پیغامات کا علم ہونے کے بعد شدید صدمہ پہنچا۔ خاتون اول کی ایک قریبی دوست نے مصنفہ کو بتایا کہ بریجیٹ میکرون صرف ان مبینہ پیغامات پر ناراض نہیں تھیں بلکہ انہیں اس بات کا احساس بھی ہونے لگا تھا کہ وہ اپنے شوہر کی زندگی میں آہستہ آہستہ پس منظر میں جا رہی ہیں۔ یہی احساس ان کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔
مزیدپڑھیں:ملک پر مجموعی قرضے 97307 ارب روپے پر پہنچ گئے
یاد رہے کہ بریجیٹ میکرون کبھی ایمانویل میکرون کی استاد رہ چکی ہیں۔ دونوں کی محبت کی کہانی فرانس سمیت دنیا بھر میں خاصی مشہور رہی ہے کیونکہ دونوں کے درمیان عمر کا نمایاں فرق بھی ہمیشہ موضوع بحث رہا۔ بعد ازاں دونوں نے شادی کر لی اور بریجیٹ میکرون فرانسیسی سیاست میں ایک مؤثر اور نمایاں شخصیت بن کر سامنے آئیں۔
دوسری جانب فرانسیسی خاتون اول کے ترجمان نے کتاب میں کیے گئے دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ بریجیٹ میکرون اپنے شوہر کا موبائل فون یا ذاتی پیغامات چیک نہیں کرتیں اور کتاب میں شامل الزامات بے بنیاد ہیں۔ ادھر گل شفتے فرحانی نے بھی صدر میکرون کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق یا غیرمناسب رابطے کی تردید کرتے ہوئے ان خبروں کو محض افواہیں قرار دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے دعوے فرانسیسی سیاست میں نئی بحث کو جنم دے سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب فرانس کی داخلی سیاست پہلے ہی کئی تنازعات کا شکار ہے۔ تاہم اب تک ان دعوؤں کے حق میں کوئی واضح ثبوت منظر عام پر نہیں آیا، جس کے باعث یہ معاملہ سوشل میڈیا اور میڈیا مباحث تک محدود دکھائی دے رہا ہے۔









