بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سرکاری افسران کے اثاثوں کی اے آئی کے ذریعے نگرانی کا فیصلہ، ایف بی آر کو تحقیقات کے اختیارات دینے کی تجویز

 حکومت(Government) نے سرکاری افسران کے اثاثوں اور مالی معاملات کی نگرانی کے نظام کو مزید سخت اور شفاف بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ایسے سرکاری ملازمین کی جانچ پڑتال اور تحقیقات کا اختیار دیا جائے گا جن کے اثاثے ان کے ظاہر کردہ ذرائع آمدن سے زیادہ ہوں۔

یہ تفصیلات سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے اجلاس میں بریفنگ کے دوران سامنے آئیں۔ اجلاس کی صدارت سلیم مانڈوی والا نے پارلیمنٹ ہاؤس میں کی۔

اے آئی نظام مشکوک مالی سرگرمیوں پر “ریڈ فلیگ” جاری کرے گا

اجلاس میں حکام نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی پر مبنی جدید نگرانی کا نظام متعارف کروایا جا رہا ہے، جو سرکاری افسران کے اثاثوں اور دولت میں غیر معمولی اضافے کی صورت میں خودکار طور پر “ریڈ فلیگ” الرٹس جاری کرے گا۔

اس نظام کے ذریعے ان افسران کی نشاندہی کی جا سکے گی جن کے مالی معاملات میں غیر معمولی تبدیلیاں سامنے آئیں گی یا جن کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے ہوں گے۔

دسمبر 2026 سے اثاثوں کی تفصیلات عوامی ہوں گی

وفاقی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نبیل اعوان نے کمیٹی کو بتایا کہ دسمبر 2026 سے گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے تمام سرکاری افسران کے اثاثوں اور مالی تفصیلات کو ڈیجیٹل ڈکلیئریشن سسٹم کے تحت عوامی سطح پر دستیاب کیا جائے گا۔

مزیدپڑھیں:اب فیصلے ایوان نہیں میدان میں ہونگے، فضل الرحمان کا ملک گیر احتجاج کا اعلان

انہوں نے کہا کہ یہ نظام ایف بی آر کی مشاورت سے تیار کیا جا رہا ہے تاکہ مالی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

خاندان کے اثاثے اور بیرون ملک دوروں کی تفصیلات بھی لازمی

مجوزہ نظام کے تحت سرکاری افسران کو نہ صرف اپنے ذاتی اثاثے بلکہ خاندان کے اثاثوں اور بیرون ملک دوروں کی مکمل تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔

حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد سرکاری اداروں میں احتساب کے نظام کو مؤثر بنانا اور غیر قانونی اثاثوں کی روک تھام کرنا ہے۔

ایف بی آر حکام کو تحقیقات کا اختیار

بریفنگ میں بتایا گیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین اور ممبر ان لینڈ ریونیو سمیت اعلیٰ حکام کو اختیار ہوگا کہ وہ اے آئی کی مدد سے ہونے والی نگرانی کے دوران سامنے آنے والے مشکوک مالی معاملات پر تحقیقات شروع کر سکیں۔

شفافیت اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش

ماہرین کے مطابق یہ مجوزہ نظام سرکاری اداروں میں شفافیت بڑھانے، مالی بے ضابطگیوں کی روک تھام اور احتساب کے عمل کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مؤثر بنانے کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔