ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے ملک بھر کی سرکاری اور نجی جامعات میں ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی پروگراموں میں داخلوں کے لیے نئی پالیسی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت GRE/HAT جنرل اور متعلقہ سبجیکٹ ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
نئی پالیسی کا اطلاق فال 2026 کے داخلوں سے ہوگا اور اس کے تحت تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ایک یکساں داخلہ نظام پر عمل کرنا ہوگا۔
ETC کے ٹیسٹ کی بنیاد پر داخلے ہوں گے
ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے کوآرڈینیشن ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ گریجویٹ سطح کے داخلوں میں معیار، شفافیت اور میرٹ کو بہتر بنانے کے لیے موجودہ نظام کا جائزہ لیا گیا۔
فیصلے کے مطابق لیول 7 یعنی ایم ایس/ایم فل اور لیول 8 یعنی پی ایچ ڈی پروگراموں میں داخلے صرف ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل کے تحت منعقد ہونے والے GRE/HAT جنرل اور متعلقہ سبجیکٹ ٹیسٹ کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔
جامعات اپنے الگ داخلہ ٹیسٹ نہیں لے سکیں گی
نوٹیفکیشن کے مطابق ملک کی تمام جامعات اور اعلیٰ تعلیمی ادارے اس فیصلے پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے۔
مزیدپڑھیں:توشہ خانہ کا مزید ریکارڈ جاری، اعلیٰ حکومتی شخصیات کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ اب جامعات ایم ایس، ایم فل یا پی ایچ ڈی پروگراموں کے لیے اپنے علیحدہ داخلہ ٹیسٹ منعقد نہیں کر سکیں گی اور نہ ہی یونیورسٹیوں کے تیار کردہ ٹیسٹ GRE/HAT جنرل کے متبادل تصور کیے جائیں گے۔
پرانی پالیسی کی بعض شقیں واپس
نئے فیصلے کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے گریجویٹ ایجوکیشن پالیسی 2023 کی بعض شقیں فوری طور پر ختم کر دی ہیں۔
ان میں وہ شق بھی شامل ہے جس کے تحت جامعات کو 50 فیصد پاسنگ اسکور کے ساتھ اپنا داخلہ ٹیسٹ لینے کی اجازت دی گئی تھی۔ اسی طرح یونیورسٹی سطح پر تیار کردہ GRE/HAT مساوی ٹیسٹ، جس کے لیے 60 فیصد نمبر مقرر تھے، کی اجازت بھی ختم کر دی گئی ہے۔
معیار اور شفافیت بڑھانے کا دعویٰ
ایچ ای سی کے مطابق اس نئے نظام کا مقصد ملک بھر میں گریجویٹ پروگراموں کے داخلوں کے معیار کو یکساں بنانا اور مختلف جامعات کے داخلہ ٹیسٹ سے متعلق تحفظات کو دور کرنا ہے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے داخلوں میں شفافیت اور میرٹ کو فروغ مل سکتا ہے، تاہم بعض حلقوں نے جامعات کی خودمختاری اور ان کے داخلی امتحانی نظام پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوالات بھی اٹھائے ہیں۔
فوری نفاذ کا اعلان
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ “کمپیٹنٹ اتھارٹی” کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے اور فوری طور پر نافذ العمل ہوگا، جبکہ فال 2026 سے تمام داخلے نئی پالیسی کے مطابق کیے جائیں گے۔









