بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

گوادر میں ایران سے آنے والے پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

بلوچستان کے ضلع گوادر میں ایران سے آنے والے ایرانی پیٹرول(Irani Petrol) کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں فی لیٹر قیمت 30 سے 40 روپے تک بڑھ گئی ہے۔

مقامی تاجروں اور تیل کے کاروبار سے وابستہ افراد کے مطابق اس اچانک اضافے کے نتیجے میں گوادر میں ایرانی پیٹرول کی قیمت 200 سے 210 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اس سے قبل یہ 170 سے 180 روپے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔

تیل کے کاروبار سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ اضافہ پاکستان میں حکومتی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کے باعث نہیں بلکہ سرحدی علاقے کنٹانی ہور کی بندش کی وجہ سے ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہی راستہ ایران سے آنے والے تیل کی ترسیل کے لیے اہم سمجھا جاتا تھا، اور اس کی بندش کے بعد سپلائی چین متاثر ہوئی ہے جس کے باعث مقامی مارکیٹ میں فوری طور پر قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

مکران ڈویژن کے سرکاری حکام نے بھی کنٹانی ہور کی بندش کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ اقدام وفاقی سطح پر متعلقہ اتھارٹیز کی ہدایت پر کیا گیا ہے۔ مقامی صحافی بہرام بلوچ کے مطابق گوادر کے علاقے جیونی کے قریب واقع کنٹانی ہور کے ذریعے سمندری راستے سے ایرانی تیل کی ترسیل ہوتی تھی، جو اس وقت معطل ہے۔

مزیدپڑھیں:سوشل میڈیا کی معروف جوڑی نمرہ اور اسد طویل عرصے بعد دوبارہ منظرِ عام پر آ گئے

گوادر کے ایک مقامی تیل ڈیلر ماجد اصغر کے مطابق سپلائی متاثر ہونے کے بعد مارکیٹ میں فوری طور پر قلت پیدا ہوئی، جس نے قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا۔ ان کے مطابق پہلے جو ایرانی پیٹرول نسبتاً سستے داموں دستیاب تھا وہ اب محدود سپلائی کے باعث مہنگا ہو گیا ہے۔

دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان بھی برقرار ہے، جس کے اثرات خطے کے ممالک پر پڑ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل 107 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 101 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر سپلائی میں کمی اور جغرافیائی کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کا اثر درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک جیسے پاکستان پر بھی پڑ رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ حکومتی سطح پر آئندہ قیمتوں کے جائزے میں ممکنہ طور پر فی لیٹر پیٹرول کی قیمت میں کم از کم 10 روپے اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔