بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

چارسدہ واقعہ، پولیس نے مردان سے گرفتاریاں کر لیں، تحقیقات تیز

چارسدہ میں معروف مذہبی اسکالر مولانا محمد ادریس (Maulana Muhammad Idrees)کے ٹارگٹ کلنگ کیس میں پولیس نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے سات مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد سے مختلف زاویوں سے تفتیش جاری ہے جبکہ واقعے کی مکمل تہہ تک پہنچنے کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔

مولانا ادریس کو 5 مئی کو اس وقت فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا جب وہ مدرسے جا رہے تھے۔ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ان کے ساتھ موجود دو پولیس گارڈز زخمی ہوئے تھے۔

تحقیقاتی حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں گرفتار افراد کو مردان کے مختلف علاقوں سے حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔ کیس کی تفتیش میں جدید ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جا رہی ہے، جس کے تحت چارسدہ، نوشہرہ اور اطراف کے علاقوں کا موبائل ڈیٹا حاصل کر کے جیو فینسنگ کی جا رہی ہے تاکہ مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا جا سکے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج اور ایک وائرل ویڈیو کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے جس میں مبینہ حملہ آور کو جائے وقوعہ سے فرار ہوتے دیکھا گیا ہے۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھا اور اس نے پشاور کے مختلف علاقوں، جن میں چمکنی اور کوہاٹ روڈ شامل ہیں، سے ہوتے ہوئے سروس روڈ کے ذریعے چارسدہ کا رخ کیا۔

مزیدپڑھیں:میرپورٹیسٹ،سلو اوور ریٹ کی پاداش میں قومی ٹیم پر بھاری جرمانہ عائد

ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم حملے کے روز صبح تقریباً 5:30 بجے چارسدہ پہنچا تھا۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش سیف سٹی پراجیکٹ ٹیم اور دیگر خصوصی یونٹس کی مدد سے جاری ہے، جبکہ ڈیجیٹل شواہد اور نگرانی کے مواد کی تصدیق پر بھی کام تیز کر دیا گیا ہے تاکہ اس مبینہ منصوبہ بند ٹارگٹ کلنگ کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔

مولانا محمد ادریس علاقے کی ایک معروف مذہبی شخصیت تھے اور ماضی میں صوبائی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے تھے۔ ان کے قتل کے بعد چارسدہ سمیت مختلف علاقوں میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کارکنان نے احتجاج کرتے ہوئے فوری گرفتاریوں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے ضلع بھر میں سرچ آپریشن شروع کر دیے ہیں اور حساس مقامات پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، تاہم اب تک کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔