بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

2035 چاند پر لینڈنگ،2047 چاند پرمستقل موجودگی قائم کرنا ہدف، احسن اقبال

واشنگٹن، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ہدف 2035 تک چاند پر لینڈنگ اور2047 تک چاند پر اپنی موجودگی قائم کرنا ہے، پاکستان علم، تحقیق، جدت اور انسانی صلاحیتوں کی بنیاد پر ایک خلائی صلاحیت رکھنے والی قوم بننے کے سفر پر گامزن ہے اور اس مقصد کے لیے عالمی اداروں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے اپنے دورۂ امریکہ کے دوران امریکی خلائی ادارے ناسا اور امریکی ایرو اسپیس صنعت کے نمائندوں سے اہم ملاقاتیں کیں، انہوں نے کہا کہ حکومت نارووال میں عالمی معیار کے “پاکستان اسپیس لرننگ سینٹر اینڈ میوزیم” کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے، جہاں طلبہ اور نوجوانوں کو کہکشاؤں، بلیک ہولز، بگ بینگ، نظامِ شمسی اور انسانی خلائی سفر سے متعلق جدید اور انٹرایکٹو انداز میں سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

احسن اقبال نے ناسا اور امریکی ایرو اسپیس کمپنیوں نے مجوزہ مرکز کی تیاری اور پاکستان کے خلائی پروگرام کے ساتھ وسیع تر ادارہ جاتی تعاون میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان 2035 تک چاند پر لینڈنگ اور 2047 تک چاند پر پاکستانی موجودگی کے قومی وژن پر کام کر رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وژن کی تکمیل کے لیے ناسا کے ساتھ علم کی منتقلی، سائنسی تحقیق، مشن پلاننگ، تکنیکی تربیت اور ادارہ جاتی استعداد کار میں تعاون ناگزیر ہے۔

انہوں نے امریکی اداروں کو پاکستان کی نوجوان اور باصلاحیت افرادی قوت، خصوصاً انجینئرز، سائنسدانوں اور آئی ٹی ماہرین کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کی دعوت بھی دی۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو روایتی جغرافیائی و سیاسی دائرے سے آگے بڑھاتے ہوئے تعلیم، صحت، موسمیاتی تبدیلی، جدت اور خلائی تحقیق جیسے شعبوں تک وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں معمولی حصہ ہونے کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے، اس لیے سائنسی تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

مزید پڑھیں:چینی اور بھارتی ہیکرز نے پاکستانی قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو نشانہ بنایا، رپورٹ

مجوزہ پاکستان اسپیس لرننگ سینٹر دونوں ممالک کے درمیان جدید شراکت داری، نوجوان ذہنوں میں سرمایہ کاری اور مشترکہ جدت کی علامت ثابت ہوگا، جبکہ حکومت نوجوانوں کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ مہارتوں سے آراستہ کرنے اور عالمی ٹیکنالوجی شراکت داریوں کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔