نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے براہوی زبان کے نامور شاعر (Poet)اور پروفیسر حیات غمخوار جان کی بازی ہار گئے، واقعہ مینگل قبرستان کے قریب پیش آیا جہاں وہ موٹر سائیکل پر شہر کی جانب جا رہے تھے۔
تفصیلات کے مطابق پروفیسر حیات غمخوار، جو نوشکی ڈگری کالج میں براہوی زبان کے لیکچرر تھے، کلی سیدان مینگل سے روانہ ہوئے تھے کہ راستے میں دو موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے انہیں نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے جبکہ حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
واقعے کے بعد انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں اور ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔
پروفیسر حیات غمخوار براہوی ادب میں ایک معتبر نام تھے اور ان کی علمی و ادبی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کی وفات کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں غم و غصے کی فضا پھیل گئی جبکہ بڑی تعداد میں لوگوں نے سوگ میں شرکت کی۔
بعد ازاں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں انہیں آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ مقامی ادبی حلقوں اور شہریوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔









