بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آندھرا پردیش حکومت کا آبادی بڑھانے کیلئے مالی ترغیب دینے کا اعلان

بھارتی ریاست آندھرا پردیش(Andhra Pradesh) کے وزیراعلیٰ چندرابابو نائیڈو نے ملک میں شرح پیدائش میں مسلسل کمی اور مستقبل میں ممکنہ آبادیاتی بحران کے خدشات کے پیش نظر ایک غیر معمولی حکومتی تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت زیادہ بچوں کی پیدائش پر مالی ترغیبات دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے یہ بات سری کاکولم ضلع کے نرسنناپیٹا میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی دباؤ اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کے باعث اب کئی خاندان ایک یا زیادہ سے زیادہ دو بچوں تک محدود ہو رہے ہیں، جو طویل مدت میں سماجی اور معاشی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے وہ خود آبادی پر کنٹرول کی پالیسیوں کے حامی تھے، لیکن موجودہ صورتحال میں یہ سوچ بدل چکی ہے۔ ان کے مطابق حکومت اب اس بات کی حوصلہ افزائی کرے گی کہ خاندان زیادہ بچے پیدا کریں، کیونکہ “بچے ملک کا مستقبل اور سب سے قیمتی سرمایہ ہیں”۔

اعلان کے مطابق حکومت تیسری اولاد کی پیدائش پر 30 ہزار روپے جبکہ چوتھی اولاد پر 40 ہزار روپے مالی امداد فراہم کرے گی۔ اس اقدام کو آبادی کے توازن اور مستقبل کی افرادی قوت کو مستحکم رکھنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

مزیدپڑھیں:مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج، چاند کی رویت پر فیصلہ متوقع

چندرابابو نائیڈو نے اپنے خطاب میں جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کم شرح پیدائش ایک عالمی مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جس کے اثرات معیشت اور لیبر مارکیٹ پر براہ راست پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کے لیے آبادی کا متوازن ہونا ضروری ہے، اور اعداد و شمار کے مطابق فی عورت اوسطاً 2.1 بچے آبادی کے استحکام کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔

دوسری جانب اس اعلان نے بھارت میں سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومتی پالیسی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے فیصلے بغیر واضح حکمت عملی اور مالی پلاننگ کے ممکن نہیں۔

کانگریس رہنما کارتی چدمبرم نے مختصر ردعمل میں حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اس اعلان پر سوالیہ نشان لگایا، جبکہ پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ ملک میں آبادی سے متعلق ایک جامع اور طویل المدتی پالیسی کی ضرورت ہے، جو اس وقت موجود نہیں۔

وائی ایس آر کانگریس کے رہنما نے اس فیصلے کو سیاسی توجہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اعلانات زمینی حقائق اور مالی وسائل کو مدنظر رکھے بغیر کیے جا رہے ہیں۔

یہ معاملہ بھارت میں آبادیاتی تبدیلی، معاشی دباؤ اور ریاستی پالیسیوں پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔