دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت Elon Musk کو مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی OpenAI کے خلاف دائر مقدمے میں قانونی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی جیوری نے پیر کے روز اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ایلون مسک کی جانب سے دائر کیا گیا مقدمہ قانونی طور پر قابلِ قبول نہیں تھا اور اوپن اے آئی کو اس بات کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا کہ کمپنی نے انسانیت کی بھلائی کے لیے قائم کیے گئے اپنے ابتدائی مشن سے انحراف کیا۔
جیوری نے متفقہ طور پر یہ بھی کہا کہ ایلون مسک نے مقدمہ دائر کرنے میں غیر معمولی تاخیر کی، جس کی وجہ سے ان کے مؤقف کو قانونی بنیاد فراہم نہیں ہو سکی۔
یاد رہے کہ ایلون مسک اوپن اے آئی کے ابتدائی بانیوں میں شامل رہے ہیں، تاہم بعد ازاں ان کے اور کمپنی کے درمیان اختلافات سامنے آئے تھے۔ مسک کا مؤقف تھا کہ کمپنی نے غیر منافع بخش مقاصد سے ہٹ کر تجارتی مفادات کو ترجیح دی، جبکہ اوپن اے آئی نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا۔
مزیدپڑھیں:ایس ای سی پی کے تحت نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں ریکارڈ اضافہ
عدالتی فیصلے کے بعد ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی دنیا میں اس مقدمے پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے، جہاں ماہرین اسے اے آئی انڈسٹری کے مستقبل کے لیے اہم قانونی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔









