متحدہ عرب امارات(United Arab Emirates) میں حکومت نے ملازمین کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے ایک نیا اور سخت قانون نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت نجی شعبے کی کمپنیوں کے لیے ہر ماہ کی پہلی تاریخ تک تنخواہیں ادا کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ اس اقدام کو ورکرز کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
نجی کمپنیوں کے لیے نئی ڈیڈ لائن
اماراتی وزارت محنت کے مطابق یہ قانون صرف نجی شعبے کی کمپنیوں پر لاگو ہوگا، جبکہ سرکاری ادارے اس دائرہ کار سے باہر رہیں گے۔ نئی پالیسی کے تحت ہر کمپنی کو اپنے ملازمین کو ماہانہ بنیاد پر مقررہ تاریخ تک تنخواہ ادا کرنا ہوگی۔
تاخیر پر سخت کارروائی کا عندیہ
حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی کمپنی مقررہ وقت کے بعد تنخواہ ادا کرتی ہے تو اسے تاخیر تصور کیا جائے گا۔ ایسی صورت میں متعلقہ ادارے کے خلاف قانونی کارروائی، جرمانے اور دیگر انتظامی اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
ملازمین کے حقوق کے تحفظ کا مقصد
وزارت محنت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا بنیادی مقصد ملازمین کو مالی مشکلات سے بچانا اور تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کے نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے لیبر مارکیٹ میں اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مزیدپڑھیں:مرادآباد میں حیران کن واقعہ، خاتون نے پانچ دن میں چار بچوں کو جنم دے دیا
یو اے ای کی اصلاحاتی پالیسیوں کا تسلسل
رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات پہلے ہی ورکرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کرا چکا ہے۔ یہ نیا قانون بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس سے ملک کے لیبر نظام کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
غیر ملکی ورکرز کے لیے بڑی سہولت
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خاص طور پر غیر ملکی ملازمین کو فائدہ ہوگا، جو نجی کمپنیوں میں کام کرتے ہیں اور بروقت تنخواہوں پر انحصار کرتے ہیں۔ نئی پالیسی سے ان کے مالی تحفظ اور استحکام میں واضح بہتری متوقع ہے۔









