بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نیب کی بحریہ ٹاؤن کے خلاف بڑی کارروائی، ہزاروں ایکڑ اراضی منجمد

ڈائریکٹر جنرل نیب کراچی کی جانب سے جاری کردہ منجمدی (فریزنگ) احکامات کی تعمیل میں، ڈپٹی کمشنر جامشورو نے پولیس کی نفری اور محکمہ جنگلات حکومتِ سندھ کے کنزرویٹر کے ہمراہ دیہہ مول، تعلقہ تھانہ بولا خان، نیز بحریہ ٹاؤن (BTK) 2 ضلع جامشورو کی زمین کا قبضہ لے لیا ہے۔

ایک اور کارروائی میں، ڈپٹی کمشنر ضلع ملیر نے بھی ایک دوسرے فریزنگ آرڈر کی تعمیل میں علی ولا کو سیل کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل نیب نے ملک ریاض حسین کی ذاتی رہائش کے لیے تعمیر کردہ عظیم الشان حویلی، جو ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے نام پر “علی ولا” کے طور پر بحریہ ہلز، بحریہ ٹاؤن کراچی میں قائم ہے، کو منجمد کر دیا تھا۔ یہ 67 ایکڑ رقبے پر مشتمل ہے۔

علی ولا بحریہ ٹاؤن کراچی کے پہاڑی علاقے میں تعمیر کیا گیا ہے اور اس میں جدید ترین سہولیات موجود ہیں، جن میں ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر، سوئمنگ پولز وغیرہ شامل ہیں۔

مزید برآں، دو نئی انکوائریوں میں نیب نے 1338 ایکڑ اراضی بھی منجمد کر دی ہے، جس پر الزام ہے کہ اسے بحریہ ٹاؤن کراچی نے ناجائز طور پر قبضہ کیا۔ اس زمین پر بحریہ گرینز اور مختلف پریسنکٹس 33، 34، 38 تا 40، 42 اور 61 وغیرہ تعمیر کیے جانے تھے، جبکہ یہ زمین حکومتِ سندھ کی ملکیت ہے۔

اسی طرح، نیب نے بحریہ ٹاؤن 2 کی مکمل 3150 ایکڑ زمین بھی منجمد کر دی ہے، جسے مبینہ طور پر M/s Paradise Real Estate (Pvt.) Limited نے دھوکہ دہی کے ذریعے خریدا تھا۔ یہ الگ حکم بھی ڈائریکٹر جنرل نیب کراچی کی جانب سے جاری کیا گیا۔

مذکورہ فریزنگ احکامات میں متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کو کسی بھی تیسرے فریق کے حقوق پیدا کرنے سے روکیں۔

نیب اس سے قبل بھی ریفرنس نمبر 1/2025 احتساب عدالت کراچی میں دائر کر چکا ہے، جس میں ضلع ملیر کی 17,672 ایکڑ سرکاری زمین کی غیر قانونی تبدیلی/ خردبرد کے الزامات شامل ہیں، جن کی مالیت 708 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ الزام ہے کہ یہ کارروائیاں حکومتِ سندھ کے بعض افسران کی ملی بھگت سے کی گئیں، اور اسی زمین پر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایم-9 موٹروے کے قریب بحریہ ٹاؤن کراچی تعمیر کیا گیا۔