امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump)کی جانب سے ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی مؤخر کرنے کے فیصلے کی وجوہات سامنے آگئی ہیں، جن کے بارے میں ایک اسرائیلی صحافی نے اہم دعوے کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے خلیجی ممالک کی سفارتی مداخلت اور خطے کی حساس صورتحال کو بنیادی سبب قرار دیا جا رہا ہے۔
خلیجی ممالک کی امریکا کو واضح وارننگ
اسرائیلی صحافی براک راویڈ کے مطابق سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے امریکا کو سخت پیغام دیا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج پورے خطے کو بھگتنا پڑیں گے، خاص طور پر خلیجی ممالک کی معیشت اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ کے اہم علاقائی رہنماؤں سے رابطے
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد اور یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے براہ راست رابطے کیے اور صورتحال پر مشاورت کی۔
مزیدپڑھیں:نصیر الدین شاہ کی بالی ووڈ پر کڑی تنقید، مذہبی شناختوں کے مذاق پر سوالات اٹھا دیے
مشترکہ موقف: جنگ کے بجائے مذاکرات
دوحہ، ریاض اور ابوظبی نے مبینہ طور پر امریکا پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے۔ خلیجی ممالک نے خدشہ ظاہر کیا کہ جنگ کی صورت میں خطے کی آئل اور انرجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی اندرونی مشاورت
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں اور عسکری حکام کو بھی خلیجی اتحادیوں کے مؤقف سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں مزید کشیدگی کسی کے حق میں نہیں اور توانائی تنصیبات پر حملوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ایران پر حملہ فی الحال مؤخر
ٹرمپ نے بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ سعودی عرب، قطر اور یو اے ای کی درخواست پر ایران پر طے شدہ فوجی کارروائی کو فی الحال مؤخر کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا خطے اور عالمی امن کے لیے بہتر ہے۔









