لاہور: رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے وکیل نے کہا ہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ ثاقب چدھڑ(saqib chadur) کے جانب سے تمام شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما اور رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے وکیل میاں علی اشفاق نے پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کے درمیان پہلی ملاقات 21-2020 میں ہوئی اور اس کیس میں آئندہ مزید تفصیلات سامنے آئیں گی، جن کے جواب کے لیے ایک ہفتے کا وقت لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ادکارہ مومنہ اقبال نے مبینہ طور پر مسلسل مالی معاونت حاصل کی اور 5 کروڑ روپے سے زائد کے مطالبات بھی کیے گئے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مومنہ اقبال پہلے بھی ایک رشتے میں تھیں، جس کے باعث موجودہ معاملہ پیچیدگی کا شکار ہوا۔ اداکارہ نے ثاقب چدھڑ کے اہلیہ پر بھی الزامات لگائے ہیں۔
میاں علی اشفاق نے کہا کہ ثاقب چدھڑ چند روز قبل مومنہ اقبال کے ہونے والے شوہر کے خلاف دھمکیاں دینے کا مقدمہ درج کرا چکے ہیں۔ ثاقب چدھڑ اور مومنہ کے درمیان گزشتہ پانچ سال سے رابطہ تھا اور یہ عوامی مقامات پر کئی بار ایک ساتھ دیکھے بھی جا چکے ہیں لیکن درخواست گزار کا اب ان پر سائبر ہراسمنٹ کا الزام لگانا اپنی نوعیت کا انوکھا کیس ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کیس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ثاقب چدھڑ ایک سیاسی آدمی ہیں۔ اس لیے ان کے حلیف اور حریف بہت سے ہیں۔
دوسری جانب اداکارہ مومنہ اقبال اپنے وکیل کے ہمراہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے دفتر میں پیش ہوئیں۔ جہاں انہوں نے مبینہ ہراسگی کے ٹھوس ثبوت تفتیشی افسران کے سامنے رکھ دیئے ہیں۔
مزید پڑھیں:صوبائی خود مختاری کو ختم کرنا بچوں کا کھیل نہیں، شازیہ مری
سیکیورٹی اور تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ این سی سی آئی اے کے دفتر میں پیشی کے دوران اداکارہ مومنہ اقبال نے مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے، دھمکی آمیز پیغامات اور دیگر ڈیجیٹل شواہد تفتیشی ٹیم کے حوالے کیے۔









