کراچی (Karachi) میں ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے ملکی سیاست، معیشت، بلدیاتی نظام اور بین الاقوامی امور پر اظہارِ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ عیدالاضحیٰ کے دوران کراچی میں صفائی ستھرائی کی صورتحال تسلی بخش نہیں رہی، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کے پائیدار حل کے لیے مقامی حکومتوں کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانا ضروری ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا مکمل فائدہ عوام تک منتقل نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیٹرول کی قیمت میں مزید کمی کی جائے اور اسے تین سال کے لیے 250 روپے فی لیٹر پر منجمد کیا جائے تاکہ معیشت کو استحکام مل سکے۔ ان کے بقول اگر معاشی سرگرمیوں کو فروغ نہ دیا گیا تو ملک کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، تاہم حکومت کو پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر ہونے والی پیش رفت سے عوام کو آگاہ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ آزاد تجارتی روابط کے فروغ کے لیے بھی عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں؛بلوچستان کی ترقی میں اہم پیش رفت: نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہلی پرواز کامیابی سے لینڈ
ٹیکس نظام پر بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ تنخواہ دار طبقہ مسلسل ٹیکسوں کا بوجھ اٹھا رہا ہے اور گزشتہ سالوں میں اس طبقے نے اربوں روپے ٹیکس ادا کیا، جبکہ ٹیکس وصولی کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی “اے پلس ٹیم” ہے، جبکہ وفاقی حکومت کراچی کے مسائل کے حل میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایم کیو ایم مختلف ادوار میں حکومتی اتحادوں کا حصہ رہی ہے۔
غزہ کی صورتحال پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ ان کے مطابق امریکا اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے، جبکہ فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے والوں کو بھی مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔









