امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای(mujtaba khamnai) بھی جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکراتی عمل میں شامل ہیں اور میں ان سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔
نیویارک پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے زور دیکر کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای امن مذاکرات کے عمل کا حصہ ہیں، وہ یقیناً شامل ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
انھوں نے مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے عوام اور حکومت بھی ان کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے سپریم لیڈر کی صحت سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ میری کبھی اُن سے ملاقات نہیں ہوئی ہے اس لیے ان کی صحت کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔
تاہم امریکی صدر نے ان خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر افواہوں پر یقین کیا جائے تو مجتبیٰ خامنہ ای اپنے جسم کے کئی حصوں سے محروم ہو چکے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای سمیت تمام متعلقہ رہنماؤں سے ملنا چاہوں گا اور ممکن ہے کہ مستقبل میں کسی وقت ہماری ملاقات ہو بھی جائے یہ اس بات پر منحصر ہے کہ معاملات کس سمت جاتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ممکنہ معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔
قبل ازیں صدر ٹرمپ نے ایک اور حالیہ انٹرویو میں یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے اصولی مؤقف سے اتفاق کیا ہے اگرچہ اس حوالے سے ایرانی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یاد رہے کہ مارچ میں ایران کے نئے سپریم لیڈر بننے والے مجتبیٰ خامنہ ای اب تک منظر عام پر نظر نہیں آئے ہیں۔ ان کے تحریری پیغامات کو بھی سرکاری نیوز چینلز پر پڑھ کر سنایا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں:بجٹ میں ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے 2 ارب 78 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص
فروری کے آخری روز اسرائیل کے فضائی حملے میں ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای عسکری قیادت سمیت شہید ہوگئے تھے۔









