بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آکٹوپس کی حیران کن ذہانت پر نئی تحقیق: یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت انسانوں کے قریب تر

حالیہ سائنسی تحقیق میں سمندری جانور آکٹوپس (Octopus) کے بارے میں ایک دلچسپ انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔

تحقیق کے مطابق آکٹوپس نہ صرف پیچیدہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ وہ اپنے تجربات کو یاد رکھ کر مستقبل میں بہتر فیصلے بھی کر سکتے ہیں۔ سائنسدانوں نے تجربات میں دیکھا کہ یہ جانور مخصوص راستوں، اشیاء اور حتیٰ کہ انسانی رویوں کو بھی یاد رکھ کر ان کے مطابق اپنا ردِعمل تبدیل کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آکٹوپس کا اعصابی نظام عام مچھلیوں سے بہت مختلف ہے، کیونکہ ان کے دماغ کے علاوہ ان کے بازوؤں میں بھی “مقامی ذہانت” موجود ہوتی ہے، جو انہیں بیک وقت مختلف کام کرنے کے قابل بناتی ہے۔

مزید پڑھیں؛کوانٹم فزکس میں بڑی پیش رفت: سائنسدانوں نے “مکمل رینڈمنیس” حاصل کر لی

اس تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ آکٹوپس سادہ اوزار (tools) استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور بعض اوقات اپنے اردگرد کے ماحول کو چھپنے یا شکار سے بچنے کے لیے غیر معمولی انداز میں استعمال کرتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ذہانت صرف ممالیہ جانوروں تک محدود نہیں بلکہ سمندری مخلوقات میں بھی پیچیدہ علمی صلاحیتیں موجود ہو سکتی ہیں، جو ارتقائی سائنس کو سمجھنے میں نئی راہیں کھولتی ہیں۔