خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی (Sohail Afridi) نے کہا ہے کہ سوات ڈیم منصوبہ مکمل طور پر تیار ہے، لیکن وفاقی حکومت غیر ملکی انجینئرز کے دورے کے لیے این او سی جاری نہیں کر رہی، جس سے منصوبے کی پیش رفت متاثر ہو رہی ہے۔
ورلڈ فوڈ سیفٹی ڈے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام میں محفوظ خوراک کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے قیام سے صوبے میں صحت بخش خوراک کی فراہمی میں واضح بہتری آئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے تسلیم کیا کہ صوبہ ابھی گندم میں خود کفیل نہیں، تاہم اس سمت میں منصوبہ بندی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور آئندہ بجٹ میں محکمہ خوراک کے لیے مزید وسائل رکھے جائیں گے، ساتھ ہی جدید گودام بھی تعمیر کیے جائیں گے۔
ان کے مطابق حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک خیبرپختونخوا کئی اہم شعبوں میں خود کفالت حاصل کر لے۔
مزید پڑھیں؛خیبرپختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک نفرتوں کو جنم دے گا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ پنجاب کی جانب سے خیبرپختونخوا کو گندم کی فراہمی روک دی گئی ہے، اور متعدد خطوط کے باوجود اس معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سی آر بی سی منصوبے کے لیے صوبائی حکومت نے 3 ارب روپے دیے، مگر وفاقی سطح پر مطلوبہ فنڈنگ نہیں مل سکی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ناردرن بائی پاس منصوبے کے لیے صوبے نے 4 ارب روپے کی بریج فنانسنگ کی ہے، جبکہ پشاور بس ٹرمینل مکمل ہونے کے باوجود این ایچ اے راستے کی اجازت نہیں دے رہا۔
وزیراعلیٰ کے مطابق سوات ڈیم جیسے اہم منصوبے کے لیے بھی غیر ملکی انجینئرز کے دورے کی اجازت نہ ملنا تشویشناک ہے، اور ایسے فیصلے ترقیاتی عمل میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے ساتھ امتیازی رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، جو عوام میں بے چینی اور احساسِ محرومی کو بڑھا سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئین کے مطابق گیس پیدا کرنے والے صوبے کو اس کے استعمال پر پہلا حق حاصل ہے، لیکن خیبرپختونخوا زیادہ گیس پیدا کرنے کے باوجود کم حصہ استعمال کر رہا ہے، جس کا اثر عام شہریوں اور خصوصاً متوسط طبقے پر پڑ رہا ہے۔
آخر میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے عوام وفاقی پالیسیوں کے براہِ راست اثرات برداشت کر رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ تمام معاملات کو منصفانہ انداز میں حل کیا جائے۔









