مالی مشکلات یا سوشل میڈیا(Social Media) کا فریب،نوجوان خطرناک جنسی کاروبار کی راہ پر۔سوشل میڈیا پر جنسی مواد کی بھرمار، نوجوان نسل بلیک میلنگ اور نفسیاتی تباہی کے شکنجے میں پھنس گئی ۔
مونیٹائزیشن کا لالچ، ماؤں کے ذریعے چلائے جانے والے اکاؤنٹس کم عمر بچیوں کیلئے خطرناک ہو گئے ۔پروگرامیٹک اشتہارات کا اندھا نظام، برانڈز غیر اخلاقی ویب سائٹس کے سہولت کار بننے لگے ۔
مواد نہیں صارفین اہم، سوشل میڈیا پر اشتہاری حکمت عملی نے اخلاقی حدود کو پس پشت ڈال دیا۔ تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں نوجوان بڑھتی ہوئی مالی مشکلات، خاندانی دباؤ اور سوشل میڈیا کے جھوٹے و غیر حقیقی معیاروں کے زیر اثر ایک خطرناک رجحان کی طرف مائل ہو رہے ہیں، جہاں وہ جنسی نوعیت کی تصاویر اور ویڈیوز کے کاروبار میں شامل ہو کر نہ صرف اپنی نجی زندگی کو داؤ پر لگا رہے ہیں بلکہ بلیک میلنگ، استحصال اور نفسیاتی تباہی جیسے سنگین خطرات سے بھی دوچار ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:اسمارٹ فون کی وجہ سے شرح پیدائش میں کمی آئی، تحقیق میں انکشاف
اس کے ساتھ ساتھ اشتہاری کمپنیاں، دانستہ یا غیر دانستہ طور پر، انہی پلیٹ فارمز کو مالی سہارا فراہم کر رہی ہیں جو اس غیر اخلاقی اور مجرمانہ نیٹ ورک کو فروغ دے رہے ہیں، یوں ایک پیچیدہ عالمی بحران جنم لے رہا ہے۔ماہرین کے مطابق اس رجحان کی ایک بڑی وجہ جدید ڈیجیٹل اشتہاری نظام، خصوصاً پروگرامیٹک ایڈورٹائزنگ ہے، جس میں مشین لرننگ الگورتھمز اشتہارات کو خودکار انداز میں مختلف ویب سائٹس تک پہنچاتے ہیں۔
اس عمل میں اکثر کمپنیوں کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے اشتہارات کن پلیٹ فارمز پر ظاہر ہو رہے ہیں، اور یوں ان کا برانڈ غیر ارادی طور پر فحش یا استحصالی مواد کے ساتھ منسلک ہو جاتا ہے۔ تاہم بعض کمپنیاں کم لاگت کے باعث جان بوجھ کر ایسے پلیٹ فارمز کا انتخاب بھی کرتی ہیں۔
اشتہاری حکمت عملی میں بنیادی اہمیت مواد کے معیار کی بجائے ناظرین کی نوعیت کو دی جاتی ہے۔ اگر کسی ویب سائٹ کے صارفین کسی برانڈ کے ہدفی صارفین سے مطابقت رکھتے ہوں تو کمپنیاں وہاں اشتہار دینے سے گریز نہیں کرتیں، چاہے اس پلیٹ فارم پر موجود مواد اخلاقی یا قانونی لحاظ سے متنازع ہی کیوں نہ ہو۔
یہی رویہ اس مسئلے کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا رہا ہے۔تحقیقات میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ میٹا، جو انسٹاگرام کی مالک کمپنی ہے، کئی سنگین رپورٹس پر مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔









