بیجنگ :کچھ عرصے سے ” چائنا میکسنگ “کا نیا لفظ انٹرنیٹ پر بے حد مقبول ہو رہا ہے جس کا مطلب ہے ” چینی طرز زندگی کو اپنانا”۔ یہ اصطلاح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مغربی “جنریشن زی” کے نوجوانوں میں ایک نئی تہذیبی لہر جنم لے رہی ہے۔ روز بروز مزید مغربی نوجوان بے پناہ جوش و خروش کے ساتھ چینی طرزِ زندگی، فیشن اور ثقافت کو گلے لگا رہے ہیں۔ کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرِ معاشیات جوسٹین ہاگ نے حال ہی میں ایک ویب سائٹ دی گلوبل کرنٹس پر اپنا مضمون “میں چائنا میکسنگ کی حمایت کیوں کرتا ہوں” شائع کیا، جس میں انہوں نے ایک اسکالر اور ایک عام آدمی دونو ں کی حیثیت سے اس بات کا جائزہ لیا کہ آخر انہوں نے اس نئی لہر کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیوں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ انتخاب صرف چینی ثقافت سے محبت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ چین کی حاصل کردہ کامیابیوں کی عقلی بنیادوں پر تسلیم شدہ حقیقت ہے۔طویل عرصے سے مغربی میڈیا ایک متکبرانہ منطق پر بضد ہے کہ عالمی نظام ایسا ہونا چاہیے جس میں مغرب سب سے اوپر ہو، اور دیگر ممالک کی ترقی صرف اسی وقت “جائز” سمجھی جائے گی جب وہ مغرب کے طے کردہ دائرے میں رہے۔ اسی بیانیے کے زیرِ اثر، بہت سے مغربی شہریوں کے ذہنوں میں چین کے بارے میں تعصبات اور غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ لیکن اب نوجوان نسل کی سوچ بدل رہی ہے، وہ چینی طرزِ زندگی، جمالیات اور ثقافت کو بغیر کسی جھجھک کے اپنا رہے ہیں، اپنے بڑوں کے پرانے تصورات کی اندھی تقلید نہیں کر رہے، اور یوں تعصبات کی دیواریں خاموشی سے منہدم ہو رہی ہیں۔اپنے مضمون میں ہاگ کا کہنا ہے کہ طویل عرصے کی تحقیق اور چین میں ذاتی مشاہدے کے بعد، ان کا ماننا ہے کہ چین کی ہائی اسپیڈ ریلوے،عمدہ بنیادی تنصیبات اور جدید ٹیکنالوجی تو قابلِ ستائش ہیں ، لیکن ان کی نظر میں چین کا سب سے عظیم کارنامہ غربت کے خاتمے کی مہم ہے۔ ان کے نزدیک یہ انسانی تاریخ کی عظیم ترین کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ ہاگ اس کامیابی کے ایک اور قابلِ ذکر پہلو کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں: چین نے یہ کارنامہ ایسے وقت میں سرانجام دیا جب اس کی فی کس مجموعی قومی پیداوار امریکا کے مقابلے میں محض چھٹے حصے کے برابر تھی۔ اس کے باوجود چین میں اوسط متوقع عمر 79 سال تک پہنچ چکی ہے، جو امریکا کے برابر ہے، اور یہ ہدف اقوامِ متحدہ کی پیش گوئی سے تقریباً بیس سال پہلے حاصل کر لیا گیا ۔ صرف چھٹے حصے کی فی کس جی ڈی پی کے باوجود، چین نے امریکا سے بڑھ کر بنیادی ہیلتھ انشورنس کا وسیع دائرہ کار حاصل کیا اور شہری انفراسٹرکچر کو انتہائی پختہ بنایا۔ ہاگ لکھتے ہیں کہ اتنے محدود وسائل کے باوجود 1.4 ارب انسانوں کے لیے ایسا معیارِ زندگی برقرار رکھنا، حکمرانی اور ریاستی صلاحیت کا شاہکار ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ چین کی بہت سی کامیابیاں ہیں، مگر غربت کے خاتمے جیسے کارنامے اکثر نظرانداز کر دیے جاتے ہیں، کیونکہ تیز رفتار ریلوے جیسی چیزیں محسوس کرنا آسان ہے، لیکن ایک ارب چالیس کروڑ افراد کی زندگیوں میں آنے والی بہتری کو کوئی غیر ملکی براہِ راست محسوس نہیں کر سکتا، جبکہ چینی شہری اسے اپنی روزمرہ زندگی کا فطری حصہ سمجھتے ہیں۔ہاگ کی تحریر کی اصل شدت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ بحث کو اخلاقیات کے ابتدائی نکتے پر لے آتے ہیں: کیا ایک ملک کا یہ عمل کہ وہ محدود وسائل سے اربوں انسانوں کی زندگی بہتر بنائے، تہذیب کی اصل پیمائش کے مطابق سب سے قابلِ قدر حکمرانی نہیں ہے؟ مغربی بیانیہ یہاں ہمیشہ لا تعداد “لیکن” لگاتا ہے—سیاسی نظام، ماڈل، نظریات—گویا اربوں انسانوں کی زندگی اور وقار کا انحصار کسی “سیاسی درستگی” کی منظوری پر ہے۔ یہ غرور دراصل انسانی ترقی کو ایک ایسا کھیل بنا دیتا ہے جس کے قواعد و ضوابط صرف مغرب طے کرے۔” چائنا میکسنگ ” کی مقبولیت، دراصل اسی کھیل کے اصولوں سے انکار ہے۔ جب مغربی نوجوان اپنے فیصلوں سے چینی طرزِ زندگی کو اپناتے ہیں اور جب اسکالرز “ترقیاتی استبداد” کے بیانیے کی زنجیریں توڑتے ہیں، تو دنیا کے سامنے ایک نئی حقیقت ابھر کر آتی ہے: جدیدیت کا کوئی واحد ماڈل نہیں اور تہذیبی ترقی کا کوئی ایک ہی راستہ نہیں ہو سکتا۔ چینی راستے کی اہمیت یہ ہے کہ وہ کوئی نیا “ٹیمپلیٹ” فراہم نہیں کرتا، بلکہ اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ ہر ملک کو اپنی صلاحیت اور حالات کے مطابق ترقی کا راستہ چننے کا حق حاصل ہے۔ مغرب کے لیے اصل چیلنج شاید یہ نہیں کہ وہ “چین کے عروج” کا مقابلہ کیسے کرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ “استاد” ہونے کی ذہنیت کو ترک کرے اور یہ تسلیم کرے کہ انسانیت کے مستقبل کا واحد جواب اس کے پاس نہیں۔ بالآخر، جب اربوں انسان غربت سے باہر نکلتے ہیں تو یہ کسی ایک ملک کی کامیابی نہیں ہوتی بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ فتح ہوتی ہے۔ اس حقیقت کا اعتراف ہی دراصل تہذیبوں کے درمیان حقیقی احترام اور باہمی فہم کی بنیاد ہے۔
چائنا میکسنگ: مغربی تصورات کو چیلنج کرتی ایک نئی تہذیبی لہر








