بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

راولا کوٹ میں اعلانات، عوام کو باہر نہ نکلنے کی ہدایت، کوٹلی میں پُرتشدد جھڑپیں، 3 افراد ہلاک

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف اضلاع میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر آج (بدھ) دوسرے روز بھی مکمل شٹر ڈاؤن(shutter down) ہڑتال کی جا رہی ہے جبکہ راولا کوٹ میں مساجد سے ہونے والے اعلانات میں عوام کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔

ڈپٹی کمشنر پونچھ ممتاز کاظمی نے بی بی سی کو بتایا کہ راولا کوٹ کی مساجد سے ’کرفیو کے نفاذ‘ کے اعلانات اطلاعات اُن کے نوٹس میں آئی ہیں، تاہم سرکاری طور پر اس حوالے سے تاحال کوئی نوٹیفکیشن نہیں جاری کیا گیا ہے۔

مقامی صحافی خورشید بیگ کے مطابق راولاکوٹ کی مساجد سے اعلان کیا جا رہا ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ شہر میں کوفیو نافذ کر دیا گیا ہے لہذا باہر کے افراد شہر کی جانب نہ آئیں اور مقامی افراد گھروں سے نہ نکلیں۔ راولا کوٹ کے ایک شہری نے بھی مساجد سے اس نوعیت کے اعلانات کی تصدیق کی ہے۔

راولا کوٹ کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ لانگ مارچ میں شرکت کے لیے قافلوں کی صورت میں آنے والے مظاہرین اِس وقت ہجیرہ نامی علاقے میں موجود ہیں اور وہ راولا کوٹ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

احتجاج کے پیش نظر کشمیر بھر میں سکیورٹی انتہائی سخت ہے اور ریاستی دارالحکومت مظفر آباد میں ہیلی کاپٹر علی الصبح سے فضاؤں میں نگرانی کی غرض سے پروازیں کر رہے ہیں۔

مظفر آباد کے علاوہ کشمیر کے بڑے اضلاع بشمول باغ، میرپور، راولا کوٹ اور کوٹلی میں آج دوسرے روز بھی کاروباری مراکز، پبلک ٹرانسپورٹ، بینک اور پیٹرول پمپس بند ہیں۔

سڑکوں پرعام ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگرچہ کشمیر میں سرکاری دفاتر کُھلے ہوئے تاہم اُن میں حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کا ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر حادثے پر اظہارِ افسوس

ایکشن کمیٹی کے مطابق احتجاج کا سلسلہ اُس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک یہ مطالبہ منظور نہیں ہو جاتا۔

اس احتجاج کے پیش نظر کشمیر بھر میں صورتحال کشیدہ ہے اور ممکنہ امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں کشمیر حکومت کی درخواست پر وفاق کی جانب سے اضافی نفری کشمیر میں تعینات کی گئی ہے۔