ذرائع کے مطابق 26-2025ء کے دوران حکومتی معاشی کارکردگی(economic efficiency) کا اسکور کارڈ پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال بھی حکومت زیادہ تر معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی، مجموعی قومی پیداوار کی شرحِ نمو 4.2 فیصد ہدف کے مقابلے میں 3.7 فیصد تک محدود رہنے کا تخمینہ ہے۔
جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کو بھی پاکستان کی شرحِ نمو کم رہنے کی توقع ہے۔قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس آج، بجٹ جمعے کو پیش ہوگا۔ فی کس آمدن کا سالانہ ہدف بھی پورا نہ ہو سکا۔
فی کس آمدن کا ہدف 5 لاکھ 60 ہزار 803 روپے مقرر کیا گیا تھا تاہم یہ 5 لاکھ 33 ہزار 629 روپے تک محدود رہنے کا امکان ہے، البتہ ڈالر میں فی کس آمدن 150 ڈالرز اضافے کے ساتھ 1901 ڈالرز ریکارڈ ہوئی۔ زراعت اور صنعتی شعبوں کی ترقی کے اہداف حاصل نہ ہو سکے۔
زرعی شعبے کی عبوری کارکردگی 4.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں 2.89 فیصد رہی جبکہ صنعتی شعبے کی شرحِ نمو 4.30 فیصد ہدف کے مقابلے میں 3.51 فیصد تک محدود رہی۔
خدمات کے شعبے کی ترقی 4 فیصد ہدف کے مقابلے میں 4.09 فیصد تک ہونے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں:موشن پکچرز (ترمیمی) بل 2024ء سینیٹ میں پیش، اتفاق رائے سے منظور
دوسری جانب اوسط مہنگائی 7.50 فیصد ہدف کے مقابلے میں 11 ماہ کے دوران 7 فیصد رہی جبکہ مئی میں مہنگائی کی شرح 11.66 فیصد ریکارڈ کی گئی۔









