وزیر دفاع خواجہ آصف(Defence Minister) نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔
قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کو بڑی سفارتی کامیابی ملی، ایران امریکا معاہدے سے پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارک بادی دی لیکن ان میں اتنا دل گردہ نہیں کہ پاکستان کا نام لیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ایران سے پابندیاں اٹھتی ہیں تو پاکستان کو گیس اور تیل کی صورت میں فائدہ ہوگا، ایران امریکا معاہدے میں ایران سے پابندیاں اٹھنے جارہی ہیں، اس سے سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اگر آج سڑکیں محفوظ نہیں تو بھی اس ایوان کی ذمے داری ہے، ایک دوسرے کو طعنہ دینے سے بات نہیں بنے گی۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ایک وقت تھا جب بلوچستان میں لوگوں کو پہاڑوں سے نیچے بلا کر بد عہدی کی گئی، بلوچستان میں دہشت گردی کا حل ہم سب مل کر ہی کرسکتے ہیں، ایسا حل ہونا چاہیے جو بلوچستان کے بلوچوں اور پختونوں کو قبول ہو۔
اُن کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان میرے چھوٹے بھائی ہیں، دہشت گردی کا منبع افغانستان ہے، جب افغانستان میں گیا تو ڈی جی آئی ایس آئی ساتھ تھے۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ افغانستان نے ہم سے ان کو دور دراز کے علاقوں میں بسانے کےلیے 10 ارب روپے مانگے، ہم نے رقم کے بدلے تحریری ضمانت مانگی۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان نے تحریری ضمانت دینے سے انکار کردیا، ہم صرف گارنٹی چاہتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو۔
وزیر دفاع نے کہا کہ سال 2022ء سے 4222 ہمارے فوجی و سپاہی شہید ہوچکے ہیں، یہ شہادتیں ان کے ہاتھوں ہوئیں جنہوں نے ہمارا نمک کھایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ان سے بات کرنے کا کہا جاتا ہے، ہم بات چیت کرنے کو تیار ہیں مگر کوئی ضمانت تو دے، اپوزیشن کے لوگ جرگہ بنا کر افغانستان جاکر مذاکرات کریں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اپوزیشن قیادت افغانستان سے اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے کی گارنٹی لے آئے، ہم سپورٹ کریں گے۔
مزید پڑھیں:پاکستان ریلوے، 5 ٹرینوں کی پونے 11 ارب میں آؤٹ سورسنگ، ترجمان
انہوں نے کہا کہ ہم نے 1980ء کی دہائی میں امریکا کی پراکسی کا کردار ادا کیا، امریکا سمیت سب نے ہمیں استعمال کیا، وہ خود چلے گئے اور ہم بھگت رہے ہیں۔









