بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ معیشت کیلئے گیم چینجر یا ایک اور سفید ہاتھی


Warning: Trying to access array offset on value of type bool in /home/cn0hgdhfr55b/public_html/dailymumtaz.com/wp-content/themes/dmumtaz/template-parts/content/content-single.php on line 20

پاکستان میں 90 کی دہائی اور بعد کے سالوں میں جب لوڈشیڈنگ کے بحران نے شدت اختیار کی، تو اس وقت نجی سرمایہ کاری کا ماحول سازگار نہ تھا۔ تب حکومت نے آئی پی پیز (Independent Power Producers) کو متوجہ کرنے کے لیے انتہائی پرکشش اور ضمانت شدہ شرائط دیں، جن میں “بجلی لو یا نہ لو، پیسے ادا کرو” (Take-or-Pay)، ڈالرز میں ادائیگی اور پہلے سے طے شدہ منافع (ROI) جیسے نکات شامل تھے۔

اس پالیسی نے آئی پی پیز کا کاروبار تو منافع بخش بنا دیا مگر یہ قومی خزانے کے لیے وبالِ جان بن گیا، جس کا نتیجہ آج پوری قوم تقریباً 1940 ارب روپے کی کیپیسٹی پیمنٹ کی ادائیگی کی صورت میں بھگت رہی ہے۔اسی تناظر میں اب ایران اور پاکستان کے مابین گیس پائپ لائن منصوبے کی بازگشت دوبارہ سنی جا رہی ہے۔

مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبہ پاکستان کے لیے واقعی فائدہ مند ہوگا یا یہ بھی ایک نیا ‘سفید ہاتھی ثابت ہوگا؟ اگر ہم جذبات سے ہٹ کر حقائق پر نظر ڈالیں تو اس معاہدے کی تاریخ 1990 سے جڑی ہے، جب ایران، پاکستان اور بھارت نے “پیس پائپ لائن” (Peace Pipeline) کی بنیاد رکھی تھی۔ اس کا مقصد ایران کے ساؤتھ پارس (South Pars) گیس فیلڈ سے نکلنے والی گیس کو خطے تک پہنچانا تھا۔ نقشے بنے، وفود ملے اور سفارتی کوششیں کی گئیں، مگر بھارت کی علیحدگی کے بعد یہ منصوبہ صرف ایران-پاکستان (IP) گیس پائپ لائن تک محدود رہ گیا۔

2009 میں پاکستان اور ایران نے گیس خریداری کا معاہدہ کیا اور 2013 میں اس کا باضابطہ افتتاح بھی کر دیا گیا۔ ایران نے اپنی سرحد تک تقریباً پوری پائپ لائن مکمل کر کے اربوں ڈالر خرچ کر دیے، مگر عالمی پابندیوں، مالیاتی دباؤ اور بینکنگ نظام کی رکاوٹوں نے پاکستان کو اس منصوبے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ 17 سال قبل ہونے والا یہ معاہدہ آج کی معاشی حقیقتوں میں کتنا سودمند ہے؟

توانائی کے ماہرین کے مطابق، پرانے معاہدے کے تحت پاکستان کو ایرانی گیس تقریباً 11 سے 15 ڈالر فی MMBtu پڑ سکتی ہے۔ یہ قیمت 2009 کے تناظر میں شاید قابلِ قبول تھی، لیکن 2026 میں عالمی منڈی کی صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ آج ایشیائی LNG کی قیمتیں تقریباً 9.5 سے 10 ڈالر فی MMBtu کے آس پاس ہیں۔ قطر کے طویل المدتی معاہدے بھی 9 سے 11 ڈالر کی حد میں ہیں، جبکہ روس کئی ممالک کو پائپ لائن گیس 6 سے 8 ڈالر فی MMBtu کے مساوی نرخوں پر فراہم کر رہا ہے۔ یہاں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر عالمی منڈی میں متبادل ذرائع سستے دستیاب ہیں، تو پاکستان کو مہنگی گیس خریدنے کی کیا ضرورت ہے؟

مزید پڑھیں:پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ معیشت کیلئے گیم چینجر یا ایک اور سفید ہاتھی

ایران میں گیس نکالنے کی لاگت دنیا میں سب سے کم (2 ڈالر فی MMBtu سے بھی کم) ہے، جس کا مطلب ہے کہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات ملا کر بھی اس کی قیمت 6 سے 8 ڈالر کے درمیان ہونی چاہیے۔ ایران کا موقف جو بھی ہو، توانائی کے معاہدے جذبات پر نہیں بلکہ معاشی حقائق پر چلتے ہیں۔

اگر پاکستان نے ماضی کی طرح اس بار بھی جلد بازی میں فیصلہ کیا، تو یہ منصوبہ صنعتوں اور عوام کے لیے ایک نیا مالی بوجھ بن جائے گا۔ البتہ، اگر دونوں ممالک نئی عالمی مارکیٹ کو سامنے رکھتے ہوئے قیمتوں کا ازسرِ نو تعین (Renegotiation) کر لیں، تو یہ منصوبہ پاکستان کی معیشت کے لیے واقعی ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔