بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

برطانوی بادشاہ چارلس بکنگھم پیلس میں کیوں نہیں رہیں گے؟

) برطانوی بادشاہ کنگ چارلس (King Charles)سوم نے فیصلہ کیا ہے کہ بکنگھم پیلس کی 10 سالہ طویل اور مہنگی تزئین و آرائش مکمل ہونے کے بعد بھی وہ اور ملکہ کمیلا اس تاریخی محل میں مستقل قیام نہیں کریں گے، تاہم محل شاہی تقریبات اور دفتری سرگرمیوں کا مرکز برقرار رہے گا۔
عرب نیوز کے مطابق کنگ چارلس سوم نے اعلان کیا ہے کہ 36 کروڑ 90 لاکھ پاؤنڈ کی لاگت سے جاری بکنگھم پیلس کی تزئین و آرائش مکمل ہونے کے بعد بھی وہ اپنی رہائش قریبی شاہی عمارت کلیرنس ہاؤس میں رکھیں گے۔

شاہی حکام کا کہنا ہے کہ بکنگھم پیلس بدستور برطانوی بادشاہت کا انتظامی اور رسمی مرکز رہے گا جہاں سرکاری ملاقاتیں، اہم تقریبات اور شاہی امور انجام دیئے جائیں گے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شاہی خاندان اپنی سرگرمیوں میں شفافیت اور جدید انداز اپنانے کی کوشش کر رہا ہے، اعلان کے موقع پر کنگ چارلس نے پہلی مرتبہ بادشاہ بننے کے بعد اپنی ادا کردہ ٹیکس رقم بھی ظاہر کی، جس کے مطابق انہوں نے 25-2024 کے مالی سال میں تقریباً ایک کروڑ 29 لاکھ پاؤنڈ ٹیکس ادا کیا۔
بکنگھم پیلس 1820 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا اور ملکہ وکٹوریہ کے دور سے برطانوی بادشاہوں کی لندن رہائش گاہ رہا ہے، اس محل میں 775 کمرے ہیں اور یہ شاہی خاندان کے اہم ترین مراکز میں شمار ہوتا ہے۔

مزیدپڑھیں:امریکا ایران معاہدے کے تحت ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہوگی: سربراہ آئی اے ای اے

رپورٹس کے مطابق محل کی تزئین و آرائش کا مقصد پرانے نظام، بجلی، پانی اور حرارتی سہولیات کو جدید بنانا ہے تاکہ عمارت آئندہ کئی دہائیوں تک استعمال کے قابل رہ سکے۔

شاہی حکام کے مطابق کنگ چارلس کے اس فیصلے سے بکنگھم پیلس کو عوام کے لئے مزید کھولا جا سکے گا، زیادہ تقریبات منعقد ہوں گی اور سیاحوں کے لئے رسائی میں اضافہ کیا جا سکے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام برطانوی بادشاہت کے بدلتے ہوئے انداز کی علامت ہے، جس میں تاریخی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے عوامی شمولیت اور شفافیت پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔