جدہ (امیر محمد خان ) سعودی عرب نے غیرملکیوں کے اقا موں کے حوالے سے نئے قانون کا اجراء کیا ہے جسکے تحت سعودی عرب کی وزارتِ افرادی قوت و سماجی ترقی کے تحت کام کرنے والے پلیٹ فارم قوّہ (Qiwa) نے خبردار کیا ہے کہ وہ یکم جولائی سے ایسے کارکنان کو اداروں کے ریکارڈ سے خودکار طور پر حذف کرنا شروع کر دے گا جن کے ورک پرمٹ (اقامہ ورک پرمٹ) کو تین ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہو اور وہ تجدید نہ ہوئے ہوں۔واضح رہے کہ کئی مالکان اپنے ملازمین کے سعودی عرب میں اقاموں کی تجدی میں تاخیر کرتے تھے اور کئی ماہ یا سال اقامے تجدید نہیں کراتے تھے اقاموں کی تجدید کی ذمہ داری آجروں کی ہوتی ہے مگر کچھ چھوٹے ادارے اقاموں کی رقم بھی ملازمین سے لیتے تھے واضح رہے کہ ایک ملازم کے اقامے کی ایک سال کی تجدید دس ہزار ریال کے قریب ہوتی ہے، گزشتہ سالوں میں سعودی وزارت محنت نے آجروں کی سہولیت کیلئے یہ قانون بنایا تھا کہ وہ اپنے ملازمین کے اقاموں کی تجدید تین ماہ یا چھ ماہ، نو ماہ بھی کراسکتے ہیں تاکہ آجروں کو سہولت ہوسکے،بعض آجر اقاموں کی آخری تاریخ کے بعد کئی ماہ اور بعض صورتوں میں تساہل سے کام لیتے ہوئے کئی ماہ اور کئی سال اقامے تجدید نہیں کراتے تھے جبکہ تاریخ ختم ہونے کے بعد کام کرنا سعودی لیبر قوانین کے حوالے سے ٓ ایک جرم ہے نئے جاری قانون کے مطابق منگل 30 جون آخری تاریخ ہے جس تک آجروں کو لازمی طور پر اپنے ایسے ملازمین کے ورک پرمٹ کی تجدید یا ان کی خدمات کی منتقلی مکمل کرنا ہوگی۔ اس کے بعد کسی بھی تاخیر کی صورت میں کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔پلیٹ فارم نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی کارکن کا ورک پرمٹ تین ماہ سے زیادہ عرصے تک غیر فعال رہے تو اسے خودکار طور پر متعلقہ ادارے کے ریکارڈ سے ہٹا دیا جائے گا۔ تاہم اس دوران تمام مالی ذمہ داریاں اور واجبات آجر پر برقرار رہیں گے، جو ملازمت کے دوران غیر مجاز حیثیت میں جمع ہوئے ہوں گے۔قوّہ نے ایک استثنا بھی بیان کیا ہے کہ اگر ورک پرمٹ کی میعاد ختم ہو اور اقامہ (ریذیڈنسی پرمٹ) ابھی کم از کم 180 دن تک کارآمد ہو تو بعض صورتوں میں ورک پرمٹ کی تجدید نہ ہونے کے باوجود کارکن کو ریکارڈ سے نہیں ہٹایا جائے گا۔ لیکن اگر اقامہ کی باقی مدت 180 دن سے کم ہو تو دونوں دستاویزات کی تجدید لازمی ہوگی۔پلیٹ فارم نے مزید کہا ہے کہ جن غیر ملکی کارکنان کے ورک پرمٹ تین ماہ سے زائد مدت تک غیر فعال رہیں گے، ان کی رجسٹریشن خود بخود منسوخ کر دی جائے گی، جبکہ تمام مالی اور قانونی ذمہ داریاں آجر پر عائد رہیں گی۔قوّہ نے آجروں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر زیرِ التوا ورک پرمٹ فیس ادا کریں اور متاثرہ ملازمین کی قانونی حیثیت کو یا تو تجدید کے ذریعے یا سروس ٹرانسفر کے ذریعے درست کریں، تاکہ کسی بھی قانونی کارروائی اور مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
اقامہ و ورک پرمٹ قوانین سخت، خلاف ورزی پر قانونی اور مالی ذمہ داری آجر پر ہوگی








