ٹوکیو: جاپان نے ریکارڈ سطح تک پہنچنے والی دھوکہ دہی کی لہر کے خلاف اپنی لڑائی میں ایک غیرمتوقع معاون کو میدان میں اتارا ہے اور یہ معاون مصنوعی ذہانت پر مبنی پولیس چیف( A I Police Chief) ہے۔
’اے آئی کو‘ کے نام سے معروف اس اے آئی ورچوئل کردار کو اوساکا پریفیکچرل پولیس نے ایسے فراڈ کے خلاف آگاہی مہم کے تحت متعارف کرایا ہے جو اب صرف بزرگوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہر عمر کے لوگوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

’اے آئی کو‘ یوٹیوب پر ایک نوجوان خاتون کے چہرے اور آواز کے ساتھ نظر آتی ہے اور عوام کو خبردار کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص ویڈیو کال پر خود کو پولیس افسر ظاہر کرے تو غالب امکان یہی ہے کہ وہ انہیں دھوکہ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس کو پہلی بار عوامی سطح پر ایسے وقت میں سامنے لایا گیا جب جاپان گزشتہ سال دو ارب ڈالر سے زائد مالیت کے فراڈ سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان فراڈز میں سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی، رومانس فراڈ اور پولیس افسران، مشہور شخصیات اور دیگر قابل اعتماد افراد کا روپ دھار کر لوگوں کو لوٹنے کے واقعات شامل ہیں۔
اے آئی کو کا نام مصنوعی ذہانت کے مخفف اے آئی اور جاپانی خواتین کے ناموں میں عام طور پر استعمال ہونے والے لاحقے ’کو‘ کو ملا کر رکھا گیا ہے۔
اس نے مئی کے آخر میں اوساکا پریفیکچرل پولیس کے یوٹیوب چینل پر پہلی بار نمودار ہو کر حقیقی فراڈ کالز پر مبنی ویڈیوز کے ذریعے بتایا کہ دھوکے باز کس طرح اپنے شکار کو ذہنی طور پر قابو میں کرتے ہیں اور کن انتباہی علامات کو پہچاننا ضروری ہے۔
’چیف اے آئی کو کی جرائم سے بچاؤ کی کلاس‘ کے عنوان سے ایک ویڈیو میں وہ واضح الفاظ میں کہتی ہے کہ کوئی بھی پولیس افسر آن لائن اپنا شناختی کارڈ یا گرفتاری کا وارنٹ نہیں دکھاتا۔
مزید پڑھیں:آبی تنازع، بھارت جنگ کے بیج بونے سے گریز کرے،، اسحاق ڈار
پولیس کو امید ہے کہ یہ ورچوئل افسر نوجوانوں پر زیادہ مؤثر ثابت ہوگی کیونکہ وہ روایتی عوامی آگاہی مہمات میں کم دلچسپی لیتے ہیں لیکن سوشل میڈیا اور میسجنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے ہونے والے فراڈ کا تیزی سے شکار بن رہے ہیں۔








